عالمی توانائی ایجنسی (IEA) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث 2026 سے 2030 کے درمیان مائع قدرتی گیس (LNG) کی عالمی رسد میں 120 ارب کیوبک میٹر کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے نے بتایا کہ مذکورہ مقدار متوقع عالمی سپلائی کے 15 فیصد کے برابر ہے۔
مشرق وسطیٰ گیس نقصان کے حوالے سے ایجنسی کی سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گیس کی پیداواری صلاحیت میں کمی اور رسد کے نظام میں تعطل اس نقصان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اگرچہ نئی تنصیبات سے اس نقصان کا ازالہ ممکن ہے، تاہم رواں اور
اگلے سال گیس کی عالمی منڈی پر اس صورت حال کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ میں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد گیس کی سپلائی میں اضافہ رُک گیا ہے۔
اس تعطل کی وجہ سے صرف ایک ماہ کے دوران قطر اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی پیداوار میں 10 ارب کیوبک میٹر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تخمینے کے مطابق مارچ اور اپریل کے دوران ان دونوں ممالک کی گیس سپلائی میں مجموعی نقصان 20 ارب کیوبک میٹر تک پہنچ جائے گا۔
اس طرح ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کی بندش سے ماہانہ 10 ارب کیوبک میٹر کا براہ راست نقصان ہو رہا ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ قطر کی گیس تنصیبات پر حملوں سے ہونے والے نقصانات کی مرمت میں اگر 4 سال لگتے ہیں تو 2030 تک ملک کی گیس پیداوار میں 70 ارب کیوبک میٹر تک کی بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
مزید برآں ’قطر انرجی‘ کے نارتھ فیلڈ ایکسپینشن منصوبے میں تاخیر بھی سپلائی کو متاثر کرے گی۔ اس تاخیر کی وجہ سے 2026 سے 2030 کے عرصے میں گیس کی فراہمی مزید 20 ارب کیوبک میٹر تک کم ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے کی بندش کی طوالت رواں برس گیس کی عالمی طلب پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے گیس کی طلب سے متعلق مستقبل کی تمام پیش گوئیوں پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔