امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید سفارتی تعطل کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فورسز نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق اس طرح کی مشتبہ ایرانی سرگرمیوں کی مسلسل اور انتہائی گہری نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام اور باخبر ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے ایرانی اشتعال انگیزی کا سراغ لگاتے ہوئے اس پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
ویب سائٹ ’ایکسیس‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے بارودی سرنگیں بچھانے کے عمل کو براہ راست مانیٹر کیا ہے
تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت جوابی کارروائی کی جا سکے۔
آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے امریکہ اب جدید ترین ’نائف فش‘ انڈر واٹر ڈرونز استعمال کرے گا۔
جنرل ڈائنامکس کے تیار کردہ یہ ڈرونز ساحلی جنگی بحری جہازوں سے آپریٹ کیے جاتے ہیں اور یہ انسدادِ بارودی سرنگ مشن کا اہم حصہ تصور ہوتے ہیں۔
یہ ڈرونز سمندر کی تہہ میں چھپی یا رکاوٹوں کے درمیان موجود بارودی سرنگوں کو تلاش کرنے اور ان کی شناخت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ نظام انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر دُور ہی سے تمام تر خطرات کا پتا لگا کر انہیں ناکارہ بناتا ہے۔
نائف فش ڈرونز مخصوص سمندری مقامات سے اہم ڈیٹا اکٹھا کر کے امریکی بحریہ کو انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
اس دوران مرکزی بحری جہاز بارودی سرنگوں والے خطرناک علاقے کی حدود سے باہر رہ کر ایک بیرونی سینسر کے ذریعے تمام تر آپریشنز کو کنٹرول کرتا ہے۔
امریکی بحریہ کے پاس بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے غیر انسانی بحری نظام، جدید سینسرز اور ایم ایچ 60 ایس کثیر المقاصد ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں۔
یہ تمام وسائل اور معاون آلات خطے میں بحری نقل و حمل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تعینات ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو واضح حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی ایرانی کشتی کو فوری طور پر تباہ کر دیا جائے۔
اس اقدام کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھا کر اس اہم عالمی تجارتی راستے کو دوبارہ مکمل فعال کرنا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 8 اپریل سے جاری جنگ بندی کے دوران ہو سکتا ہے ایران نے اپنے اسلحہ خانے میں معمولی اضافہ کیا ہو ، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج صرف ایک دن کے اندر ان تمام ایرانی دفاعی انتظامات اور اضافے کو ختم کر سکتی ہے۔
امریکہ نے خطے میں بحری ناکابندی اور ممکنہ جنگ کے پیش نظر درجنوں جنگی بحری جہاز اور 3 بڑے طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات کررکھے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی اور بھاری عسکری موجودگی ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کو روکنے اور فوری جواب دینے کے لیے ہے۔