ٹیکنالوجی کے شعبے میں پرزوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود ایپل اپنے آئندہ آئی فون 18 کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔
مزید پڑھیں
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کمپنی اس مقصد کے حصول کے لیے ہینڈ سیٹ کی تیاری میں کچھ تکنیکی سمجھوتوں پر غور کر رہی ہے۔
اسکرین کے معیار میں ممکنہ تنزلی
معروف ٹیکنالوجی لیکر ’فکسڈ فوکس ڈیجیٹل‘ کے مطابق ایپل آئی فون 18 کے بنیادی ماڈل میں اسکرین کے معیار کو کم کر سکتا ہے۔
اگرچہ اس حوالے سے زیادہ تفصیل تاحال واضح نہیں، مگر توقع کی جا
رہی ہے کہ ڈسپلے برائٹنس میں کمی کی جا سکتی ہے، جو کہ آئی فون 17 کے مقابلے میں ایک قدم پیچھے ہوگا۔
پروسیسر کی کارکردگی میں کمی
ایپل مبینہ طور پر آئی فون 18 میں پروسیسر کی صلاحیتوں کو بھی محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔
کمپنی اسے ایک نئے نام کے ساتھ متعارف کرا سکتی ہے تاکہ تکنیکی فرق چھپ جائے۔ یہ حکمت عملی آئی فون 17 کے دوران اپنائے گئے طریقے سے ملتی جلتی ہے جہاں جی پی یو کورز میں فرق رکھا گیا تھا۔
پیداواری لاگت میں کمی
ایپل کی یہ کوشش دراصل لاگت میں کمی کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
آئی فون 18 اور اس کے اکانومی ورژن ’آئی فون 18 ای‘ میں مشترکہ پرزوں کا استعمال بڑھایا جائے گا۔ دونوں ماڈلز جون میں انجینئرنگ ویلیڈیشن ٹیسٹ کے مرحلے سے گزریں گے، جس سے ان کی تکنیکی ساخت مزید واضح ہو جائے گی۔
صارفین کا ردعمل اور ترجیحات
اسمارٹ فون مارکیٹ میں سام سنگ، اوپو اور موٹورولا سمیت دیگر کمپنیوں نے پہلے ہی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔
ایپل کی جانب سے کارکردگی میں معمولی کمی کے بدلے قیمت کو برقرار رکھنا ان صارفین کے لیے ایک قابل قبول اور متوازن فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے جو کم قیمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایپل کی فیوچر پلاننگ
ایپل کے متوقع اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی قیمت اور کارکردگی کے درمیان توازن تلاش کر رہی ہے۔
ڈائنامک آئی لینڈ، بڑی اسکرین، بہتر بیٹری اور کیمرہ جیسے نمایاں فیچرز برقرار رکھ کر ایپل صارفین کے لیے ڈیوائس کی افادیت کو ممکنہ طور پر برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔