جے پی مورگن چیز (JPMorgan Chase) نے سعودی عرب کے ریال میں جاری کردہ سرکاری بانڈز کو اپنی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے انڈیکس میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ عمل آئندہ برس جنوری سے مرحلہ وار شروع کیا جائے گا جس کے نتیجے میں انڈیکس میں سعودی بانڈز کا مجموعی حجم 2.5 فیصد تک پہنچ جائے گا۔
اس اہم فیصلے سے سعودی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں بڑے اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
خاص طور پر وہ عالمی سرمایہ کاری فنڈز جو بین الاقوامی انڈیکس کو
فالو کرتے ہیں، اب سعودی مارکیٹ کا رُخ کریں گے جس سے مارکیٹ کی کشش اور وسعت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
بینک کے مطابق ان بانڈز کی شمولیت کو بتدریج نافذ کیا جائے گا تاکہ مالیاتی منڈیوں میں موجودہ اتار چڑھاؤ کے پیش نظر سرمایہ کاروں کے لیے فوری عملدرآمد کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ جے پی مورگن کے اس انڈیکس کی نگرانی کرنے والے فنڈز 200 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے سنبھال رہے ہیں۔
جے پی مورگن نے اسی انڈیکس میں فلپائن کے مقامی کرنسی کے سرکاری بانڈز کو بھی 29 جنوری سے شامل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
فلپائن کا حصہ مرحلہ وار 1.78 فیصد تک بڑھایا جائے گا تاکہ وہاں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب فچ ریٹنگز میں عالمی سربراہ برائے اسلامی مالیات بشار الناطور کا کہنا ہے کہ سعودی ریال سکوک کی شمولیت ایک اہم فیصلہ ہے۔
اس پیش رفت سے مقامی ایشوز عالمی سطح پر متعارف ہوں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے راستے کھلیں گے جن کے اصل اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوں گے۔
الناطور نے بتایا کہ اس اقدام سے سعودی حکومت کے مقامی کرنسی میں جاری کردہ سکوک عالمی انڈیکس کے دائرے میں آ جائیں گے۔
اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کے سامنے ان مالیاتی ذرائع کی اہمیت، موجودگی اور شفافیت میں عالمی معیار کے مطابق اضافہ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے دو طرح کے سرمایہ کار متوجہ ہوں گے۔ پہلے وہ جو براہ راست انڈیکس کو فالو کرتے ہوئے خودکار طریقے سے سرمایہ کاری کریں گے، جبکہ دوسرے فعال سرمایہ کار ہوں گے جو شفافیت اور ڈیٹا تک رسائی بڑھنے کے باعث ان بانڈز میں گہری دلچسپی لینا شروع کر دیں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی سرکاری بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حصہ 2025ء کے آخر تک 12 فیصد تھا جو رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔
عالمی انڈیکس میں شمولیت سے سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کرنے اور اس کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
اگرچہ سرکاری طور پر ان سکوک کی انڈیکس میں مکمل شمولیت 2027ء میں متوقع ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ جیو پولیٹیکل اعتماد کی بنیاد پر سرمایہ کار پہلے بھی آ سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت مستقبل میں مقامی بینکوں اور کمپنیوں کے لیے بھی انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔