اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

ہرمز بحران کے بعد ’سعودی۔ترک ریلوے منصوبہ‘ بحال کرنے پر غور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی ترک ریلوے منصوبہ مشرق وسطیٰ تجارت نقشہ
سعودی ترک ریلوے منصوبہ (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری مال برداری میں رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب نے ترکیہ کے ساتھ اُردن اور شام کے راستے ریلوے رابطے کی بحالی پر غور شروع کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق اس اہم منصوبے کا مقصد سمندری راستوں کے بجائے محفوظ اور متبادل زمینی تجارتی راہداری فراہم کرنا ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ صالح الجاسر نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس بڑے منصوبے کا مشترکہ مطالعہ رواں سال کے اختتام سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔ 

یہ منصوبہ ایک صدی پرانی اس تاریخی ریلوے لائن کی یاد تازہ کرے گا جو ترکیہ کو سعودی عرب سے ملاتی تھی۔ اس تاریخی ریلوے لائن کا 

آغاز 1908ء میں ہوا تھا، جو دمشق سے مدینہ منورہ تک پھیلی ہوئی تھی۔

اُس وقت دمشق اس نیٹ ورک کا مرکزی نقطہ تھا جہاں سے ٹرینیں شمال میں حلب اور ترکیہ جبکہ مغرب میں لبنان اور بیروت تک جایا کرتی تھیں۔

سعودی ترک ریلوے منصوبہ مشرق وسطیٰ تجارت نقشہ
سعودی ترک ریلوے منصوبہ (فوٹو: العربیہ)

اپنے ابتدائی برسوں میں اس ریلوے لائن نے علاقائی رابطوں میں کلیدی کردار ادا کیا تھا تاہم پہلی جنگ عظیم کے دوران 1916ء سے 1918ء کے درمیان اسے شدید نقصان پہنچا۔

اس کے بعد یہ نیٹ ورک ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور مدینہ منورہ کا راستہ بند ہو گیا۔

حکام کے مطابق موجودہ منصوبہ جدید تجارتی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے جس میں سعودی ریلوے نیٹ ورک پہلے ہی ریجن الجوف میں الحدیثہ کے مقام پر اُردن کی سرحد تک پہنچ چکا ہے۔ 

اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان مال برداری اور تجارت میں غیر معمولی آسانی پیدا ہوگی۔

اُردن نے بھی اپنے ملک کے شمال اور جنوب کو جوڑنے کے لیے ریلوے منصوبے کا اعلان کر رکھا ہے۔ 

عقبہ کا علاقہ جو نیوم سٹی کے قریب واقع ہے، اسے ایک اہم لاجسٹک کوریڈور قرار دیا گیا ہے جو ترکیہ کے ذریعے یورپ کو خلیجی ممالک سے جوڑے گا۔

سعودی ترک ریلوے منصوبہ مشرق وسطیٰ تجارت نقشہ
سعودی ترک ریلوے منصوبہ (فوٹو: العربیہ)

خلیج تعاون کونسل کے مشترکہ ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے سے اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھے گی۔

اس طرح ترکیہ سے اُردن اور شام کے راستے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک تک ایک مربوط زمینی راستہ دستیاب ہوگا جو ایشیا کو یورپ سے ملائے گا۔

عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ ریلوے لنک مشرق وسطیٰ کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ 

اس سے نہ صرف تجارتی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ سمندری گزرگاہوں پر انحصار کم ہونے سے سپلائی چین کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔