اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم تہران کی جانب سے وفد بھیجنے سے انکار اور امریکی ٹیم کا دورہ ملتوی ہونے سے اس عمل کو غیریقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
مذاکرات کا پس منظر اور تعطل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا ہے تاکہ سفارتی بات چیت کا مزید موقع مل سکے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں کسی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور زمینی حقائق
سفارتی کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز میں ناکابندی اور پیر کی صبح ایک ایرانی جہاز کے امریکی گھیراؤ نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
جواب میں ایران نے بھی میں آبنائے کو دوبارہ بند کر دیا ہے، جس سے خطے میں عسکری محاذ آرائی کا خدشہ مسلسل برقرار ہے۔
پہلا منظرنامہ: مذاکرات کی معطلی
اس امکان کے مطابق دونوں ممالک میں سے کوئی بھی فریق اپنے موقف میں لچک دکھانے کو تیار نہیں۔
مذاکراتی عمل کے تعطل کے نتیجے میں سفارتی کوششیں دم توڑ سکتی ہیں، جس سے دونوں ممالک دوبارہ دھمکیوں، پابندیوں اور عسکری اقدامات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
دوسرا منظرنامہ: مذاکرات اور عبوری سمجھوتا
پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کو ایک میز پر بٹھا کر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کروائے جائیں۔
یہ پیش رفت کسی حتمی معاہدے کے بجائے ایک عارضی جنگ بندی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے محدود سمجھوتے تک محدود رہ سکتی ہے، جو وقت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
تیسرا منظرنامہ: مذاکرات مگر بڑی پیش رفت کا فقدان
چیتھم ہاؤس کی تجزیہ کار انیسہ باسری کے مطابق بڑی خلیج باقی رہنے کی صورت میں بات چیت بے نتیجہ رہ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرے، جسے ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ اس طرح کسی بھی پیش رفت کے امکانات معدوم ہیں۔
چوتھا منظرنامہ: ناکامی اور جنگ بندی کا خاتمہ
اگر مذاکرات کا دوسرا دور ناکام ہوتا ہے تو صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ’حملوں‘کی دھمکی حقیقت بن سکتی ہے۔ اُدھر ایران نے بھی اپنی عسکری تیاریوں کا عندیہ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی ٹوٹنے سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے اور علاقائی تشدد بڑھ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اپنی ضد چھوڑ کر عملی لچک کا مظاہرہ کریں۔
پاکستان کی ثالثی ایک نازک موڑ پر ہے اور کسی بھی غلط فیصلے کے نتیجے میں خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے مضمرات عالمی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے تباہ کن ہوں گے۔