چین نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطہ اس وقت جنگ اور امن کے درمیان کھڑا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے بعد سامنے آیا ہے۔
ترجمان چینی وزارتِ خارجہ گوو جیاکون نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس وقت اولین ترجیح جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی کوششیں بروئے کار لانی چاہییں۔
ترجمان نے جنگ بندی کی توسیع پر براہ راست تبصرہ کرنے کے بجائے واضح کیا کہ بیجنگ خطے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا جاری رکھے گا۔
چین کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلہ عالمی امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے جس پر گہری نظر ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے ساتھ دو ہفتوں سے جاری جنگ بندی میں مزید توسیع کا اعلان کیا تھا۔
مبصرین کے مطابق اس فیصلے کا مقصد تہران کو مذاکرات کے لیے مزید وقت دینا ہے تاکہ خطے میں جاری طویل تنازع کا کوئی سیاسی حل نکالا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران جنگ کے خاتمے کی ٹھوس تجویز پیش نہیں کرتا۔
تاہم انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کا فوجی محاصرہ (ناکابندی) جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
واضح رہے کہ اپریل 2026 کی اس تازہ ترین پیش رفت کے مطابق امریکی فوج ایرانی سمندری حدود میں اپنی سخت پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری اب ایران کے ممکنہ جواب کی منتظر ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔