اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

ممکنہ بریک تھرو قریب: مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گہرا عدم اعتماد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کے روز منعقد ہونے کا امکان ہے اور اس میں کسی بڑی پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے ایران کے معاملے میں پیش رفت کے امکان پر کہا کہ ’یہ ممکن ہے‘، جس سے سفارتی سطح پر مثبت اشارے مل رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب پاکستانی ذرائع کے مطابق آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے جبکہ ثالثی کی کوششوں کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 21 اپریل کو صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک تہران کسی متفقہ تجویز

 کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہو جاتا۔

جنگ بندی میں توسیع

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ پاکستانی قیادت نے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے تاکہ ایران کو مشترکہ تجویز تیار کرنے کا وقت مل سکے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔

ادھر پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے سفیر رضا امیری سے ملاقات کی، جس میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف اور ایرانی قیادت کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی شقوں پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

islamabad talks

تاہم ایران نے پاکستان کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی کے تسلسل کو قبول نہیں کرے گا اور مذاکرات کی بحالی کو اس ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں موجود ذرائع کے مطابق پاکستان اب بھی ایران کے حتمی مؤقف کا انتظار کر رہا ہے، اور تہران کو خبردار کیا گیا ہے کہ مذاکرات کے لیے دستیاب وقت محدود ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ تہران جنگ بندی کا پابند نہیں ہو سکتا اور وہ اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔