ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کی صورت میں امریکہ کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران اس کے اہم میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پینٹاگون کی اندرونی جائزہ رپورٹس سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حالیہ آپریشنز میں میزائلوں کے تیز رفتار استعمال نے ذخائر کو واضح طور پر کم کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
اندازوں کے مطابق ان صلاحیتوں کی بحالی فوری طور پر ممکن نہیں، کیونکہ ماضی میں پیداواری صلاحیت فوجی استعمال کے مقابلے میں محدود رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیٹاگون نے حالیہ عرصے میں دفاعی کمپنیوں کے ساتھ میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے متعدد معاہدے کیے ہیں تاہم ان اقدامات کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آئیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق متبادل نظاموں کی فراہمی میں 3 سے 5 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے، چاہے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔
قلیل مدت میں اندازہ ہے کہ امریکہ کے پاس اتنا اسلحہ موجود ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکے، خصوصاً اگر موجودہ جنگ بندی ختم ہو جائے تاہم اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق باقی ماندہ اہم ذخائر کسی بڑی اور ہم پلہ فوجی طاقت، جیسے چین کے ساتھ وسیع جنگ کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
اعداد و شمار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات سے تضاد بھی ظاہر کیا ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو اسلحے کی کمی کا سامنا نہیں تاہم ان کی انتظامیہ نے حالیہ فوجی کارروائیوں کے اثرات کو پورا کرنے کے لیے اضافی فنڈنگ کی درخواست بھی دی ہے۔
دوسری جانب، حالیہ جنگ کے دوران اسلحے پر بڑھتے ہوئے اخراجات نے یہ واضح کیا ہے کہ مناسب سطح کے ذخائر برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، خاص طور پر مغربی بحرالکاہل جیسے حساس خطوں میں، جہاں کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے اعلیٰ فوجی تیاری درکار ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر اندازہ یہی ہے کہ جنگ سے پہلے والے ذخائر کی سطح بحال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، کیونکہ طلب میں اضافہ اور صنعتی حدود اس عمل کو سست کر رہی ہیں، جس سے وزارتِ دفاع کی آئندہ تیاریوں پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔