پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے مابین مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی بدھ کی شب ختم ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں
فریقین کے درمیان کشیدگی کے اس نازک موڑ پر امریکہ نے جنگ بندی میں توسیع کے امکانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلومبرگ سے گفتگو میں واضح کیا کہ وہ کسی بھی بری ڈیل کے لیے جلد بازی نہیں کریں گے۔
انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہوتا، وہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے۔
رکاوٹیں اور ایرانی حکمت عملی
اُدھر ایرانی قیادت بھی مذاکرات کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔
تہران جہاں ایک جانب پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، وہیں ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے دباؤ کے باعث سخت موقف بھی اپنایا جا رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔
آبنائے ہرمز اور توانائی ذخائر
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، جس پر تہران اور واشنگٹن میں شدید کشیدگی جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جب تک معاہدہ دستخط نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز پر امریکی محاصرہ برقرار رہے گا اور وہ اس حوالے سے کسی نرمی کے قائل نہیں۔
جوہری پروگرام: تنازع کا اہم ترین نکتہ
ایرانی جوہری پروگرام بدستور دونوں ممالک کے مابین سب سے بڑا اختلافی معاملہ ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق جون 2025 کے ’آپریشن مڈل ہیمر‘ کے بعد سے ایرانی جوہری تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں افزودہ یورینیم کی بازیابی اب ایک طویل اور مشکل عمل بن چکا ہے۔
سفارتی کوششیں اور ثالثی
پاکستان، مصر اور ترکی بحیثیت ثالث فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے خصوصی مندوبین جیریڈ کشنر اور اسٹیووٹکوف اسلام آباد پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ڈیڈلاک ختم کیا جا سکے۔
داخلی دباؤ اور معاشی اثرات
صدر ٹرمپ کو جنگ کے حوالے سے امریکہ کے اندر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، تاہم وہ پرعزم ہیں کہ معاہدہ طے پاتے ہی ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔
انہوں نے اپنے وزیر توانائی کے دعوے سے بھی اختلاف کیا کہ قیمتیں رواں سال کے آخر تک نیچے نہیں آئیں گی۔
واشنگٹن اور تہران کے مابین موجودہ کشیدگی ایک اسٹریٹجک ابہام کی عکاس بن چکی ہے۔ ایک جانب عسکری محاذ آرائی کا خطرہ ٹل نہیں سکا، تو دوسری جانب سفارتی راستے بھی کھلے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دونوں فریق اپنے دیرینہ بیانیے سے پیچھے ہٹ کر کسی درمیانی راہ پر متفق ہو پاتے ہیں یا نہیں۔