امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے آج بدھ کے روز ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ اعلان کردہ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے تاہم یہ توسیع ’مختصر مدت‘ کے لیے ہوگی جب تک کوئی فوری معاہدہ طے نہ پا جائے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے ثالثی کردار کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
فاکس نیوز نے مزید کہا کہ یہ توسیع زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی جب تک جلد کوئی معاہدہ نہ ہو، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے، خاص طور پر امریکی بحری محاصرے اور اس کے ایرانی معیشت پر اثرات کے باعث۔
اخبار کے مطابق یہ اقدام ’ایرانی عوام کے لیے امن کی جانب آخری پیش رفت‘ ہے، جو جنگ سے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں، یہ ایرانی نظام کو اندرونی سطح پر رابطہ اور ہم آہنگی کے لیے مزید وقت فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں ایران کے اندر رابطہ کاری ’آسان نہیں‘، کیونکہ امریکہ کی جانب سے جاری ’شدید انٹیلیجنس اور فوجی مہم‘ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ان حالات میں ایرانی قیادت کے لیے سادہ رابطے، جیسے فون کال کرنا بھی آسان نہیں رہا کیونکہ انہیں نشانہ بنائے جانے کا حقیقی خدشہ لاحق ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کی شام کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھائیں گے جب تک ایران کی جانب سے کوئی تجویز پیش نہ کی جائے اور مذاکرات مکمل نہ ہو جائیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا تاکہ حملوں کو مؤخر کیا جا سکے اور ایرانی قیادت کو ایک مشترکہ تجویز تیار کرنے کا موقع ملے۔
جنگ بندی میں یہ توسیع اس کی مقررہ مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے کی گئی اور یہ فیصلہ اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان نہیں جائیں گے، جہاں امن مذاکرات کا دوسرا دور متوقع تھا۔