امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کو فوری رہا کر دیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات کے لیے ایک بہترین اور خوشگوار آغاز ثابت ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایرانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان خواتین کی رہائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان خواتین کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے تاکہ مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کا ماحول سازگار رہ سکے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایک امریکی سماجی کارکن ایال یعقوبی کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 8 خواتین کو پھانسی دیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
اگرچہ ان خواتین کے نام تاحال ظاہر نہیں کیے گئے لیکن ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بدھ کی صبح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت مذاکرات میں انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اور وہ ایران کے ساتھ ایک بہترین معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے سابقہ اوباما دور کے ایٹمی معاہدے کو ملکی سلامتی کے لیے ایک بدترین معاہدہ قرار دیا ہے۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، حالانکہ ایران نے اس سے قبل رواں ہفتے مذاکرات کے دوسرے دور کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کریں گے جو ماضی کے تمام معاہدوں سے بہتر ہوگا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں فوجی حل کے لیے مکمل تیار ہیں۔