مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ بالآخر ایک دن ختم ہو جائے گی اور موت و تباہی کے سائے چھٹ جائیں گے، لیکن جب یہ گرد بیٹھے گی تو خطے کا سیاسی نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہو گا۔
مزید پڑھیں
اس جنگ نے نہ صرف ایران کے علاقائی طاقت ہونے کے دعووں کو بے نقاب کیا ہے بلکہ لبنان میں اس کے اثر و رسوخ اور جیسے تصورات کو بھی تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔
موجودہ حالات میں جہاں امریکہ کی ساکھ متزلزل ہوئی، وہیں شدت پسند اسرائیل کا چہرہ مزید بدنما ہوا، وہیں خلیجی ممالک کے ذہنوں میں ایرانی حملوں کے زخم بھی تازہ ہیں، جو دہائیوں تک مٹ نہیں سکتے۔
جنگ کی آڑ میں عرب ممالک نشانہ
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کا شور تو بہت مچایا، لیکن عملاً اس کا رخ اپنے عرب پڑوسیوں کی طرف رہا۔
تہران نے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا بہانہ بنایا۔
حالانکہ اسے بخوبی علم تھا کہ وہ اڈے خالی ہو چکے تھے اور ایران پر ہونے والے اصل حملے سمندروں میں موجود امریکی بیڑوں ابراہام لنکن اور جيرالڈ فورڈ سے ہو رہے تھے۔
ایران نے آذربائیجان، ترکیہ اور قبرص پر داغے گئے میزائلوں سے تو اظہارِ لاتعلقی کر دیا، مگر عرب پڑوسیوں کے خلاف اس کا جارحانہ رویہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس کی جڑیں ماضی کے تاریخی انتقام میں پیوست ہیں۔
خلیج کی ترقی سے حسد
ایران کی عرب دشمنی کی ایک بڑی وجہ اپنے پڑوسیوں کی معاشی ترقی اور خوشحالی سے حسد ہے۔
خلیجی ممالک نے اپنے تیل کے وسائل کو عوام کی فلاح، جدید ترین دفاعی نظام اور معاشی استحکام کے لیے استعمال کیا۔
دوسری طرف ایران نے اپنی دولت جوہری پروگرام، میزائل سازی اور پاسدارانِ انقلاب جیسے متوازی عسکری ڈھانچوں پر لٹا دی۔
ایرانی عوام آج یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ تمام تر قدرتی وسائل اور وسیع ساحلی پٹی کے باوجود وہ اپنے عرب پڑوسیوں جیسی زندگی کیوں نہیں گزار پا رہے؟ اس کا جواب تہران کے اس نظام میں چھپا ہے جو بیرونی محاذوں پر پراکسیز کو پالنے پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔
پراکسی وار اور زمینی حقائق
ایران نے ہمیشہ خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
10 مارچ 2023 کو چین کی ثالثی میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے باوجود ایران نے اپنی مسلح تنظیموں کو لگام نہیں ڈالی۔
عراق، لبنان اور یمن میں ایران کے اثر و رسوخ نے خطے کے امن کو داؤ پر لگائے رکھا۔
حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ کا یہ اعتراف کہ ان کا تمام بجٹ، اسلحہ اور اخراجات ایران برداشت کرتا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران نے عرب ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے فرقہ واریت کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
آج ایران بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور علی لاریجانی جیسے سینئر عہدیدار بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ کوئی اسلامی ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔
نئی صف بندیاں اور عرب پالیسی
اب وقت بدل چکا اور خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔
اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش کا یہ بیان کہ خوشامد کا وقت گزر گیا، اب کھری بات ہوگی، اس بات کا عکاس ہے کہ عرب ممالک اب اپنی قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے لیے نئے اور قابلِ بھروسہ اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔
یہاں تک کہ عمان جیسے ممالک کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود ایران کا غیر لچکدار رویہ اسے بند گلی کی طرف لے جا رہا ہے۔
کیا ایران کے پاس اب بھی موقع ہے؟
ایران ایک عظیم قوم بن سکتا تھا اگر وہ اپنی سرحدوں کے اندر رہ کر ترقی کرتا اور پڑوسیوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتا۔
انقلاب کی برآمد اور عرب ممالک میں شیعہ اقلیتوں کو سیاسی مہروں کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی نے خود ایران کو نقصان پہنچایا ہے۔
اگر تہران اب بھی اپنی روش نہیں بدلتا اور قومی ریاستوں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا تو مستقبل کی تاریخ میں اسے ایک ایسی ریاست کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے دوسروں کے گھر جلانے کی کوشش میں اپنی ہی خوشحالی کو راکھ کر دیا۔