امریکی فضائی حملوں کے باوجود ایران کا ایک انتہائی محفوظ اور زیرِ زمین جوہری مرکز واشنگٹن کے لیے بڑی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ مرکز امریکی بموں کی پہنچ سے دُور ہو سکتا ہے، جس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
نقابلِ تسخیر چیلنج: جبل الفاس
یہ مرکز نطنز کے قریب جنوب میں 2 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ’ایکس ماؤنٹین‘ یعنی جبل الفاس میں واقع ہے۔
گزشتہ سال امریکی فضائی حملوں میں نطنز کی تنصیبات تباہ ہوئی تھیں، لیکن یہ نیا مرکز پہاڑ کی گہرائیوں میں ہونے کے باعث جدید ترین امریکی بموں کے لیے بھی ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
سیاسی دباؤ اور تہران کا مؤقف
امریکی صدر نے جون 2025 میں ایرانی جوہری پروگرام کی تباہی کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ تہران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے اور یورینیم کی منتقلی کے دعووں کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
فوجی آپریشن کی مشکلات
ماہرین کے مطابق اس مرکز کو تباہ کرنے کے لیے زمینی دستوں کی ضرورت ہوگی، جو انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہاں کارروائی کے لیے ممکنہ طور پر استعمال کیے گئے ہیلی کاپٹرز اور ٹرانسپورٹ طیارے ایرانی ڈرون حملوں کی زد میں آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی کارروائی کے نتائج یقینی نہیں ہیں،کیونکہ یہ مشن انتہائی پیچیدہ ہے۔
جوہری پیش رفت کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مرکز میں جدید سینٹری فیوجز کی تیاری متوقع ہے۔
اگر یہ کام مکمل ہوا تو ایران 3 ماہ کے اندر 19 جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ تہران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو اس تک رسائی نہیں دی ہے۔
فوردو سے زیادہ محفوظ تنصیبات
رپورٹ کے مطابق یہ ذخائر 600 میٹر کی گہرائی میں موجود ہو سکتے ہیں، جو فوردو کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار جیوش نیشنل سیکیورٹی آف امریکہ کے بلیز میزٹل کا کہنا ہے کہ یہ مرکز فوردو سے زیادہ گہرا اور بہتر دفاع کا حامل ہے۔
سفارت کاری یا طاقت کا استعمال؟
ٹرمپ کے کچھ مشیروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مراکز کا وجود ثابت کرتا ہے کہ ایران کو طاقت سے روکنا ناممکن ہے۔
سفارتی مذاکرات کی حمایت کرنے والے سمجھتے ہیں کہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان تاحال کسی حتمی معاہدے کے آثار نظر نہیں آتے۔
جبل الفاس کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا نیا مرکز بن چکا ہے۔
کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے کامیاب نہ ہونے کے خدشات اور سفارتی تعطل نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں طاقت کا استعمال اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔