ایران کے وفد کی آئندہ دو دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والی مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے جاری ابہام کے بعد، تہران نے آج باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک نہیں ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ فی الحال امریکا کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ’جارحانہ اقدامات‘ کیے اور جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جس کا اشارہ اتوار کے روز ایک ایرانی تجارتی جہاز کی ضبطی کی جانب تھا۔
بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران کسی بھی امریکی وارننگ کو تسلیم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیا حملہ ہوا تو سخت جواب دیا جائے گا‘۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کو تاحال پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پیشکش موصول نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنے مطالبات واضح کر چکا ہے اور ان میں تبدیلی نہیں کرے گا، جبکہ امریکی تجاویز ’غیر سنجیدہ اور غیر حقیقت پسندانہ‘ ہیں، جیسا کہ خبر رساں ادارے رائٹرز نے نقل کیا۔
جنگ بندی معاہدے کے اختتام کے قریب آنے پر بقائی نے کہا کہ ’جب قومی مفادات کے تحفظ کی بات ہو تو ہم ڈیڈ لائنز یا وارننگز کی پروا نہیں کرتے‘۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان 8 اپریل کو اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے ممکنہ خاتمے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب امریکا نے ایک ایرانی تجارتی جہاز کو ضبط کرنے کا اعلان کیا، جو ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر تہران نے ردعمل کی دھمکی دی۔
یہ پیش رفت اس کے باوجود سامنے آئی کہ اعلیٰ پاکستانی ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی وفد منگل کے روز اسلام آباد پہنچے گا۔
دوسری جانب امریکی وفد آج شام پاکستان روانہ ہو رہا ہے، جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا اور ساتھ ہی اسے تہران کے لیے ’آخری موقع‘ قرار دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں کے درمیان براہ راست اور طویل مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا، تاہم پیش رفت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔