ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی غرض سے اسلام آباد وفد بھیجنے کے اعلان کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اتوار کو تہران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے اپنی پرامیدی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کے حوالے سے بہت پُرامید ہوں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا فریم ورک پہلے ہی تیار ہو چکا ہے۔ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اگر تہران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا تو وہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کا بحری محاصرہ مذاکرات کے دوران بھی جاری رہے گا، جیسا کہ نیویارک پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی نے
اتوار کے روز خبر دی کہ ایران نے ابھی تک پاکستان میں مذاکراتی وفد بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ بحری محاصرہ جاری ہے۔
ایک باخبر ذریعے نے، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، کہا کہ جب تک امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو بند رکھے گی، مزید مذاکرات نہیں ہوں گے۔
تاہم اس کے باوجود ایجنسی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں پاکستان کی ثالثی میں دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا۔
اس سے قبل اتوار کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ پیر کو اسلام آباد میں مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے وفد بھیج رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
ساتھ ہی انہوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دہرائی، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کئے۔
دوسری جانب ایران نے اتوار کو امریکی بحری محاصرے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے ’غیر قانونی‘ قرار دیا۔