اہم خبریں
21 April, 2026
--:--:--

ایران جنگ: وائٹ ہاؤس کے اعصاب جواب دے گئے، ٹرمپ کی کمزوری ظاہر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران جنگ ٹرمپ کمزوری آبنائے ہرمز بحران منظر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

28 فروری کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایٹمی پروگرام کو ’فوری خطرہ‘ قرار دے کر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جارحانہ حملوں کا آغاز کیا تو واشنگٹن کا خیال تھا کہ یہ ایک مختصر اور برق رفتار کارروائی ہوگی۔

مزید پڑھیں

بعد ازاں 7 ہفتوں کی اس جنگ نے ثابت کیا کہ تہران کو عسکری طور پر زخمی تو کیا جا سکتا ہے، مگر اس کا نظام گرانا اتنا آسان نہیں۔ 

اُدھر ایران نے ’آبنائے ہرمز‘ کے ذریعے عالمی توانائی کی شہ رگ کو دبا کر ٹرمپ کو ایسے مقام پر کھڑا کیا جہاں ان کی سیاسی بقا داؤ پر لگ گئی۔

اقتصادی دباؤ: ٹرمپ کی دُکھتی رگ

رائٹرز کے تجزیے کے مطابق اس جنگ نے ٹرمپ کی سب سے بڑی 

کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ یعنی اندرونی معاشی لاگت کے لیے ان کی بڑھتی ہوئی حساسیت۔

  • امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور مہنگائی کی لہر نے ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
  • نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سر پر ہیں، جہاں ریپبلکنز کو اپنی معمولی اکثریت بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔ ٹرمپ کسی صورت ایسی جنگ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے جو امریکی ووٹر کی جیب پر بھاری پڑے۔

ایران کا ’اقتصادی وار‘ اور دشمن کے غلط اندازے

محققین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے معاشی ردِعمل کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔

جس طرح ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں بیجنگ کے ردِعمل کو کم تر سمجھا تھا، ویسے ہی تہران نے خلیج میں توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اور ہرمز کو بند کر کے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ 

اوباما انتظامیہ کے سابق مشیر بریٹ بروئن کے بقول’ٹرمپ معاشی دباؤ کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں اور یہی اس جنگ میں ان کی سب سے بڑی کمزوری ثابت ہوا ہے‘۔

ایران جنگ ٹرمپ کمزوری آبنائے ہرمز بحران منظر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

8 اپریل: میزائل خاموش ، میز سج گئی

ٹرمپ کا 8 اپریل کو اچانک فضائی حملوں سے سفارت کاری کی طرف مڑنا اس بات کا ثبوت تھا کہ مالیاتی منڈیوں اور ان کے اپنے حامیوں کا دباؤ کام کر گیا ہے۔

  • ٹرمپ کا سب سے بڑا ووٹ بینک ’امریکی کسان‘ کھادوں کی سپلائی رکنے سے متاثر ہوئے، جبکہ ہوائی جہازوں کے ایندھن کی قیمت بڑھنے سے عام مسافروں میں غصہ پھیل گیا۔
  • اب 21 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہو رہی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا ٹرمپ اپنی شرائط منوانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا انہیں مزید رعایتیں دینی پڑیں گی۔

حلیفوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

اس جنگ نے امریکہ کے ایشیائی حلیفوں (جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان) اور یورپی ممالک میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

واشنگٹن کے ’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ کے ماہر گریگوری پولنگ کے مطابق حلیفوں کے لیے خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے شراکت داروں کے جیو پولیٹیکل اور معاشی مفادات کو داؤ پر لگا کر غیر متوقع طریقے سے کام کر سکتی ہے۔

ایران امریکہ مذاکرات اسلام آباد پاکستان سفارتی عمل

یورینیم کا تنازع اور مستقبل

اگرچہ جمعہ کے روز ہرمز کھلنے کی خبر سے تیل کی قیمتوں میں کمی آئی، لیکن تنازع کی اصل جڑ ’ایران کا ایٹمی پروگرام‘ اب بھی جوں کا توں ہے۔

امریکی دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے اندر دفن شدہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں لے کر امریکہ منتقل کرنا چاہتا ہے، لیکن تہران نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ریڈ لائن اور اپنی بقا کا ضامن قرار دیا ہے۔

ایران جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقتور ترین عسکری قوت بھی اس وقت بے بس ہو جاتی ہے جب معاشی دباؤ اس کے داخلی سیاسی استحکام کو خطرے میں ڈال دے۔ 

ٹرمپ کے لیے یہ جنگ ایک سبق بن گئی ہے کہ سفارت کاری کا راستہ بعض اوقات میزائلوں سے زیادہ سستا اور محفوظ ہوتا ہے۔