اہم خبریں
21 April, 2026
--:--:--

کشیدگی عروج پر: 22 اپریل کے بعد کیا ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: العربیہ

دنیا بھر کی نظریں 22 اپریل پر مرکوز ہیں، جب ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے والی ہے تاہم آبنائے ہرمز اب بھی ایرانی افواج کی جانب سے بند ہے۔

گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی، جب ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹتے ہوئے ان جہازوں پر فائرنگ کی جو وہاں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا۔ 

پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ جب تک امریکی پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی اور خبردار کیا کہ کوئی بھی جہاز اپنی جگہ سے نہ ہلے، بصورت دیگر آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی ہر کوشش کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسی دوران پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر تہران سے روانہ ہو گئے اور بظاہر امریکی پیشکش اور واشنگٹن کی شرائط پر ایرانی جواب ساتھ لے گئے۔ 

d468500e a1b0 44a9 bb74
(فوٹو: العربیہ)

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق عاصم منیر نئی امریکی تجاویز تہران تک پہنچا چکے ہیں، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ وہ ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور ابھی تک کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔

تاہم ایرانی مؤقف واضح ہے کہ مذاکراتی ٹیم کسی قسم کی سودے بازی، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گی اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں آبنائے ہرمز کی بگڑتی صورتحال اور پاکستان کے ذریعے جاری مذاکرات کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ 

آج اتوار کو ان کے ممکنہ اعلان کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

5465446
فوٹو: العربیہ

اسی تناظر میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ تل ابیب کو توقع ہے کہ ٹرمپ اسلام آباد میں متوقع مذاکراتی دور سے قبل ایران کے ساتھ رابطے ختم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں دوبارہ فوجی تصادم کا امکان بڑھ رہا ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل دونوں جنگ بندی کے اچانک خاتمے کے لیے تیار ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج اور فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بھی خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں جلد کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ چند دنوں میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔

امریکی صدر نے بھی ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ کا ذکر کیا، تاہم ساتھ ہی اہم بحری راستے کے حوالے سے ’بلیک میلنگ‘ کے خلاف خبردار کیا۔

469efb63 1d05 4b1c 8e9e
(فوٹو: العربیہ)

اس کے باوجود، جنگ بندی ختم ہونے میں صرف 3 دن باقی رہ گئے ہیں اور دونوں جانب سے مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جس میں ایک طرف ایران جبکہ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل شامل تھے، کے نتیجے میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی رہنما، جن میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، مارے گئے تھے، جبکہ یہ تنازع لبنان اور عراق تک پھیل گیا تھا۔

اس جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔