اہم خبریں
21 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

قالیباف کی متنازع ٹوئٹس: تیل مارکیٹ میں ہنگامہ مچ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
قالیباف کی متنازع ٹوئٹس
ہرمز کھولنے کے اعلان سے صرف 21 منٹ قبل تیل پر 760 ملین ڈالر کی شارٹ سیل ڈیل ہوئی

ایک بار پھر ایرانی چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا نام سوشل میڈیا پر سرخیوں میں آ گیا، جب انہوں نے عالمی تیل منڈیوں کے ٹریڈروں کو خبردار کیا۔

اپنے مختصر پیغام میں ایکس پر، ایرانی مجلسِ شوریٰ کے سربراہ نے آج پیر کے روز کہا کہ ڈیجیٹل تیل کی قیمتیں اور امریکی ٹریژری بانڈز محض قیاس آرائی پر قائم کاغذی ڈھانچے ہیں، جبکہ حقیقی لین دین پر مبنی تیل کی اصل قیمتیں ہی واحد قابلِ اعتماد معیار ہیں۔

 

تاہم یہ ٹویٹ نظر انداز نہ کی جا سکی بلکہ اس نے تجزیہ کاروں، صحافیوں اور حتیٰ کہ سفارت کاروں کی بھی توجہ حاصل کی، جنہوں نے اسے پیچیدہ اور کسی حد تک مشتبہ اشارہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں

خاص طور پر قالیباف کا یہ کہنا کہ ’مارکیٹ میں ٹریڈنگ جذبات یا جیو پولیٹیکل خبروں پر مبنی ہے، نہ کہ حقیقی بنیادوں پر‘۔
اور ان کا بلومبرگ ٹرمینل کا حوالہ دینا، جو ’ڈیٹڈ برینٹ‘ یعنی حقیقی خام تیل کی قیمت (کاغذی معاہدوں کے بجائے) دکھاتا ہے، اس بحث کو مزید گہرا کر گیا۔

بعض سوشل میڈیا صارفین نے اسے اس واقعے کی طرف اشارہ قرار دیا جو

 گزشتہ جمعہ پیش آیا، جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان سے صرف 21 منٹ قبل تیل پر 760 ملین ڈالر کی شارٹ سیل ڈیل ہوئی، جس سے یہ تاثر ملا کہ کسی فریق نے پہلے ہی قیمت گرنے پر شرط لگا لی تھی۔

دوسری جانب، امریکی سابق سفارت کار اور ایرانی امور کے ماہر جویل ریبورن نے ایکس پر لکھا کہ ’قالیباف خود یہ اکاؤنٹ نہیں چلاتے‘۔
اور ان کے مطابق یہ ایرانی نظام کی ایک میڈیا اثر اندازی یا پروپیگنڈا مہم ہے، جسے بیرونِ ملک موجود نامعلوم افراد چلا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’قالیباف ذہین ضرور ہیں، مگر وہ اس سطح کی نفیس انگریزی میں بیانات تحریر نہیں کر سکتے، اور یہی بات دیگر ایرانی رہنماؤں کے اکاؤنٹس پر بھی لاگو ہوتی ہے‘۔

اسی طرح یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران گروپ کے ڈائریکٹر جیسن برودسکی نے مطالبہ کیا کہ
یہ جاننے کے لیے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ قالیباف کی جانب سے یہ ٹویٹس کون لکھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا میں مقیم ان کے ایک سابق مشیر ان ٹویٹس کو تحریر کرتا ہے، تاہم اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات ضروری ہیں۔ 

ان کے مطابق ان ٹویٹس کی زبان ’غیر معمولی حد تک پیشہ ورانہ‘ ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ قالیباف کی ٹویٹس تنازع کا باعث بنی ہوں۔ 

اس سے قبل بھی ان کے بیانات کو امریکی عوام کے لیے خاص طور پر تیار کردہ اور معاشی کمزوریوں کو نشانہ بنانے والا قرار دیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں ’فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز‘ کے سی ای او مارک دوبووٹز نے بھی شک ظاہر کیا کہ یہ پیغامات خود قالیباف نہیں لکھتے، بلکہ یہ بڑی مہارت سے امریکی سامعین کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔

ChatGPT Image 20 أبريل 2026، 10 54 58 ص

کچھ رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی نژاد امریکی میڈیا ماہر، جو کیلیفورنیا میں مقیم ہے اور میڈیا نفسیات میں مہارت رکھتا ہے، 28 فروری 2026 کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد سے یہ ٹویٹس لکھ رہا ہے۔ 

اسی دوران ایکس پر قالیباف کی سرگرمی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھی۔