ایک بار پھر ایرانی چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا نام سوشل میڈیا پر سرخیوں میں آ گیا، جب انہوں نے عالمی تیل منڈیوں کے ٹریڈروں کو خبردار کیا۔
اپنے مختصر پیغام میں ایکس پر، ایرانی مجلسِ شوریٰ کے سربراہ نے آج پیر کے روز کہا کہ ڈیجیٹل تیل کی قیمتیں اور امریکی ٹریژری بانڈز محض قیاس آرائی پر قائم کاغذی ڈھانچے ہیں، جبکہ حقیقی لین دین پر مبنی تیل کی اصل قیمتیں ہی واحد قابلِ اعتماد معیار ہیں۔
Vibe-trading digital oil is like vibe-hedging in treasuries during Hormuz risk-off. Both share one house of cards that works on paper.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 19, 2026
Difference: oil at least has Dated Brent. Treasuries? Vibes all the way down.
EUCRBRDT Index GP <GO>
تاہم یہ ٹویٹ نظر انداز نہ کی جا سکی بلکہ اس نے تجزیہ کاروں، صحافیوں اور حتیٰ کہ سفارت کاروں کی بھی توجہ حاصل کی، جنہوں نے اسے پیچیدہ اور کسی حد تک مشتبہ اشارہ قرار دیا۔
مزید پڑھیں
خاص طور پر قالیباف کا یہ کہنا کہ ’مارکیٹ میں ٹریڈنگ جذبات یا جیو پولیٹیکل خبروں پر مبنی ہے، نہ کہ حقیقی بنیادوں پر‘۔
اور ان کا بلومبرگ ٹرمینل کا حوالہ دینا، جو ’ڈیٹڈ برینٹ‘ یعنی حقیقی خام تیل کی قیمت (کاغذی معاہدوں کے بجائے) دکھاتا ہے، اس بحث کو مزید گہرا کر گیا۔
بعض سوشل میڈیا صارفین نے اسے اس واقعے کی طرف اشارہ قرار دیا جو
گزشتہ جمعہ پیش آیا، جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان سے صرف 21 منٹ قبل تیل پر 760 ملین ڈالر کی شارٹ سیل ڈیل ہوئی، جس سے یہ تاثر ملا کہ کسی فریق نے پہلے ہی قیمت گرنے پر شرط لگا لی تھی۔
You can't make this up:
— The Kobeissi Letter (@KobeissiLetter) April 19, 2026
Iran's Speaker of the Parliament just commented on "vibe-trading" digital crude oil prices and US Treasuries.
He concludes with the Bloomberg Terminal command "EUCRBRDT Index GP <GO>."
This is the command for Dated Brent oil prices, as shown below.
On… pic.twitter.com/OcCl0EsrNU
دوسری جانب، امریکی سابق سفارت کار اور ایرانی امور کے ماہر جویل ریبورن نے ایکس پر لکھا کہ ’قالیباف خود یہ اکاؤنٹ نہیں چلاتے‘۔
اور ان کے مطابق یہ ایرانی نظام کی ایک میڈیا اثر اندازی یا پروپیگنڈا مہم ہے، جسے بیرونِ ملک موجود نامعلوم افراد چلا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’قالیباف ذہین ضرور ہیں، مگر وہ اس سطح کی نفیس انگریزی میں بیانات تحریر نہیں کر سکتے، اور یہی بات دیگر ایرانی رہنماؤں کے اکاؤنٹس پر بھی لاگو ہوتی ہے‘۔
Ghalibaf isn’t running this Twitter account. It’s an Iranian regime info op by person or persons unknown outside Iran. Ghalibaf is a clever guy, but not capable of putting together the idiomatic English statements attributed to him. Same with other Iranian leadership accounts. https://t.co/B8VTjAJdIi
— Joel Rayburn (@joel_rayburn) April 19, 2026
اسی طرح یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران گروپ کے ڈائریکٹر جیسن برودسکی نے مطالبہ کیا کہ
یہ جاننے کے لیے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ قالیباف کی جانب سے یہ ٹویٹس کون لکھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا میں مقیم ان کے ایک سابق مشیر ان ٹویٹس کو تحریر کرتا ہے، تاہم اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات ضروری ہیں۔
ان کے مطابق ان ٹویٹس کی زبان ’غیر معمولی حد تک پیشہ ورانہ‘ ہے۔
There should be an investigation into who is writing these tweets for Ghalibaf. Yes, I've seen the stories about how his former advisor lives in California. But there should be some official probe. This language is too sophisticated. https://t.co/yJGdPDAez3
— Jason Brodsky (@JasonMBrodsky) April 19, 2026
یہ پہلا موقع نہیں کہ قالیباف کی ٹویٹس تنازع کا باعث بنی ہوں۔
اس سے قبل بھی ان کے بیانات کو امریکی عوام کے لیے خاص طور پر تیار کردہ اور معاشی کمزوریوں کو نشانہ بنانے والا قرار دیا گیا تھا۔
اسی تناظر میں ’فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز‘ کے سی ای او مارک دوبووٹز نے بھی شک ظاہر کیا کہ یہ پیغامات خود قالیباف نہیں لکھتے، بلکہ یہ بڑی مہارت سے امریکی سامعین کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں۔
کچھ رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی نژاد امریکی میڈیا ماہر، جو کیلیفورنیا میں مقیم ہے اور میڈیا نفسیات میں مہارت رکھتا ہے، 28 فروری 2026 کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد سے یہ ٹویٹس لکھ رہا ہے۔
اسی دوران ایکس پر قالیباف کی سرگرمی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھی۔