مملکت کا نیوم پورٹ عالمی لاجسٹک نیٹ ورک اور مشرقِ وسطیٰ میں سرحد پار تجارت کے لیے ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ پورٹ سمندری و زمینی نقل و حمل کو مربوط کرکے سامان کی ترسیل میں تیزی لانے اور تجارتی خطرات کو تقسیم کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔
نیوم پورٹ سے عراق کے عرعر بارڈر کا فاصلہ محض 900 کلومیٹر زمینی راستہ ہے۔
یورپ سے آنے والا سامان اب خلیجِ سویز سے عراق تک صرف ایک دن میں پہنچ سکتا ہے۔ روایتی بحری راستے کے مقابلے میں یہ سفر انتہائی
مختصر اور محفوظ ہے، جو وقت اور اخراجات میں نمایاں بچت کرتا ہے۔
روایتی بحری راستہ آبنائے باب المندب، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جس میں 6 سے 8 دن لگتے ہیں۔
اس کے برعکس نیوم پورٹ سے کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات تک کا زمینی سفر محض ایک سے دو دن میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
نیوم پورٹ اور اوکسگون کا کردار
نیوم پورٹ محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ یہ جدید صنعتوں اور گرین ہائیڈروجن جیسے توانائی منصوبوں کا مرکز بھی ہے۔
یہ سہولت یورپ سے خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک تک اشیائے خورونوش اور اہم سامان کی براہ راست ترسیل میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی شراکت داری اور کامیابی
’پین میرین‘ اور ’ڈی ایف ڈی ایس‘ جیسی کمپنیوں نے نیوم پورٹ کے ذریعے یورپ سے براہ راست ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل شروع کر دی ہے۔
یہ تجربہ اٹلی، برطانیہ، جرمنی اور پولینڈ کے درآمد کنندگان کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوا ہے، جس سے سپلائی چین مستحکم ہو رہی ہے۔
سفاجا اور نیوم کے مابین کامیاب تجربہ
مصر کی بندرگاہ سفاجا اور نیوم پورٹ کے درمیان تجرباتی کامیابیاں ثابت کرتی ہیں کہ بحری اور زمینی راستوں کا انضمام ہنگامی بنیادوں پر سامان کی ترسیل کے لیے بہترین ہے۔
یہی ماڈل اب خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک قابل اعتماد تجارتی متبادل کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
جغرافیائی سیاست اور نئے راستے
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے بحری تجارت کے تصور کو بدل دیا ہے۔
میڈ بلک کے ڈائریکٹر ایمن شلبی کا کہنا ہے کہ اب تجارتی راستوں کا انحصار صرف سمندری تحفظ پر نہیں بلکہ فوجی طاقت کے توازن پر ہے، جس نے نئے زمینی راہداریوں کی ضرورت بڑھا دی ہے۔
سی برج: ایک پائیدار تجارتی نظام
اب ’سی برج‘ (Sea Bridge) کے تحت یورپ سے آنے والا سامان مصر اور نہرِ سویز سے ہوتا ہوا نیوم پورٹ پہنچتا ہے، جہاں سے اسے خلیجی ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔
یہ عالمی تجارت کا کوئی عارضی حل نہیں بلکہ ایک منظم اور مستقل تجارتی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے نیوم پورٹ اور جدید انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری نے ثابت کر دیا ہے کہ بدلتی عالمی صورتحال میں متبادل راستے ہی تجارت کی بقا کی ضمانت ہیں۔
یہ ماڈل نہ صرف خطے کی معیشت کو مستحکم کر رہا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی ایک نیا اور محفوظ راستہ فراہم کر رہا ہے۔