اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

بچوں کے ملبوسات صحت کے لیے خاموش خطرہ، ماہرین نے خبردار کردیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بچوں کے ملبوسات میں سیسہ صحت کے خطرات تحقیق
(فوٹو: العربیہ)

جدید دور میں ’فاسٹ فیشن‘ نے بچوں کے ملبوسات کو سستا اور کشش سے بھرپور بنا دیا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے والدین کو خبردار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ دیدہ زیب اور شوخ رنگوں والے ان کپڑوں میں سیسے (Lead) کی موجودگی کا خطرہ پوشیدہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق اور سنگین نتائج

امریکی کیمیکل سوسائٹی کے اجلاس میں پیش کردہ تحقیق کے مطابق مختلف اسٹورز سے حاصل کردہ ٹی شرٹس کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ 

تحقیق میں شامل تمام نمونے امریکی وفاقی حفاظتی معیارات کی حد سے 

تجاوز کر گئے۔ ماہرین کے مطابق ان کپڑوں کو منہ میں لینے سے بچے نقصان دہ مقدار میں سیسے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سیسہ کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟

جامعہ ماریان کی محقق کمیلا ڈیفرز کی قیادت میں ہونے والی اس تحقیق سے پتا چلا کہ کچھ مینوفیکچررز کپڑے کے رنگوں کو دیرپا اور شوخ بنانے کے لیے ’لیڈ ایسیٹیٹ‘ کا سستا استعمال کرتے ہیں۔

اس سے قبل بھی زپ، بٹن اور دھاتی کلپس میں سیسے کی موجودگی کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔

بچوں کے ملبوسات میں سیسہ صحت کے خطرات تحقیق
(فوٹو: العربیہ)

سیسے کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات

امریکی تحفظِ ماحولیات ایجنسی کے مطابق 6 سال سے کم عمر بچے سیسے کے اثرات کا شکار ہونے کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ہیں۔

سیسے کی موجودگی دماغی نقصان، اعصابی نظام کی خرابی اور رویے میں منفی تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے، جو بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

رنگوں کی چمک اور سیسے کا تناسب

تحقیق کے دوران سرخ، گلابی، نارنجی، پیلے، سرمئی اور نیلے رنگ کی 11 شرٹس کا جائزہ لیا گیا جو 4 مختلف بڑے اسٹورز سے خریدی گئی تھیں۔

مطالعے میں یہ بات واضح ہوئی کہ شوخ رنگوں، بالخصوص سرخ اور پیلے کپڑوں میں سیسے کی مقدار نسبتاً زیادہ پائی گئی۔ کوئی بھی نمونہ 100 پی پی ایم (ppm) کی مقررہ حد پر پورا نہیں اترا۔

بچوں کے ملبوسات میں سیسہ صحت کے خطرات تحقیق
(فوٹو: العربیہ)

مستقبل کی حکمت عملی اور محفوظ متبادل

محققین کا مطالبہ ہے کہ ملبوسات کی مارکیٹ تک رسائی سے قبل سخت جانچ ہونی چاہیے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو قدرتی متبادل اپنانے چاہییں، مثلاً بلوط کی چھال یا انار کے چھلکوں سے حاصل کردہ ’ٹیننز‘، جو رنگوں کو پائیدار بنانے کے لیے محفوظ اور ماحول دوست طریقہ کار ہیں۔

صارفین میں آگاہی کی ضرورت

اس تحقیق کا بنیادی مقصد والدین کو ان پوشیدہ خطرات سے باخبر کرنا ہے جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اُمید کی جا رہی ہے کہ یہ نتائج نہ صرف صارفین کو محتاط بنائیں گے بلکہ صنعت کاروں کو بھی بچوں کی صحت پر سمجھوتہ نہ کرنے پر مجبور کریں گے۔