اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ایران امریکہ مذاکرات: پاکستان میں 21 گھنٹے، 47 سالہ تنازع کو شکست

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ مذاکرات اسلام آباد پاکستان سفارتی عمل
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

پاکستان نے حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان 47 سالہ کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے غیر معمولی سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں

چین، سعودی عرب، قطر، ترکی اور مصر کے تعاون سے اسلام آباد نے دونوں متحارب فریقین کے درمیان 8 تا 21 اپریل (2 ہفتوں پر مشتمل) جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اسلام آباد مذاکرات کا پس منظر

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین نہ صرف جنگ بندی کروائی بلکہ فریقین کے اعلیٰ سطح کے  وفود کو مذاکرات کی میز پر بھی اکٹھا کیا۔ 

11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکراتی سیشن منعقد ہوا۔ اس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے شرکت کی۔

مذاکرات اور تعطل کے اسباب

مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کی بڑی وجہ 47 سالہ پیچیدہ تنازعات تھے۔

ماہرین کے مطابق فریقین کے درمیان موجود مسائل کا فوری حل ممکن بھی نہیں تھا۔ پاکستان نے جانبداری سے گریز کرتے ہوئے فریقین کو باور کرایا کہ شدت پسندانہ موقف کے بجائے حقیقت پسندانہ اور پائیدار حل ہی واحد راستہ ہے۔

تہران کے منجمد اثاثے اور ایران امریکہ مذاکرات کی اہمیت
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

اہم پیشرفت اور نکات

ایران نے آبنائے ہرمز کو سلطنت عمان کے اشتراک سے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ امریکہ نے جزوی پابندیاں اٹھانے اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔

تاہم یورینیم کی افزودگی کا مسئلہ اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

جوہری پروگرام پر اختلافات

امریکہ نے تہران سے افزودگی کا حق مستقل طور پر چھوڑنے کا مطالبہ کیا جسے ایران نے مسترد کر دیا۔

ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی شق 4 کے تحت اپنے حق پر اصرار کیا، تاہم تہران نے 5 سالہ رضا کارانہ منجمد کرنے کی پیشکش کی ہے جس پر بات چیت جاری ہے۔

اسلام آباد میں جاری ایران امریکہ مذاکرات کی ایک تصویری جھلک
(فوٹو: ایکس)

سفارتی کوششیں اور مستقبل کی حکمت عملی

پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا اور اب وہ امریکا جائیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سعودی عرب، قطر اور ترکی سے رابطے کیے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک جنگ نہیں چاہتے، تاہم اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، جس کے باعث مزید وقت درکار ہے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی میں مزید توسیع کا امکان ہے۔ 

فریقین کے درمیان مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی، افزودگی کو محدود مدت کے لیے منجمد کرنا اور جزوی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہو سکتا ہے۔ 

یہ اقدام عالمی سطح پر تیل، گیس سمیت تجارتی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔