دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 40 سال تک پگھلتے رہنے کے بعد بالآخر پانی کے ایک تالاب میں تبدیل ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق شدید ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے اس عظیم الجثہ برفانی تودے کا اب مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے۔
برطانوی اخبار ’میٹرو‘ کی رپورٹ کے مطابق ’اے 23 اے‘ نامی یہ برفانی تودہ 1986 میں انٹارکٹیکا کے فلچنر آئس شیلف سے الگ ہوا تھا، جو کئی دہائیوں تک دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور اب ختم ہو گیا۔
اس برفانی تودے کا سفر اپریل 2026 کے آغاز میں جنوبی بحر اوقیانوس میں ختم ہوا۔ یہ وقت اس کی تشکیل کی 40 ویں سالگرہ سے محض چند ماہ قبل کا ہے، جب یہ مکمل طور پر پگھل کر سمندر کے پانی میں ضم ہو گیا۔
سیٹلائٹ کے ذریعے بحیرہ وڈیل سے اس کے ٹوٹنے اور پھر 2300 کلومیٹر شمال کی جانب سفر کی نگرانی کی گئی۔ یہ تودہ جنوبی جارجیا اور جنوبی سینڈوچ جزائر کے گرم پانیوں میں پہنچ کر تیزی سے پگھلا اور ٹوٹ گیا۔
اس برفانی تودے کے طویل عرصے تک برقرار رہنے کی اصل وجہ اس کا سمندر کی تہہ میں پھنس جانا تھا۔
ماہرین کے مطابق وہاں درجہ حرارت اتنا کم تھا کہ اس کی برف محفوظ رہی، لیکن آخری مہینوں میں اس نے تیزی سے ٹوٹنا شروع کیا۔
ماہرین کے مطابق مارچ 2026 کے آخر تک یہ تودہ سکڑ کر صرف 170 مربع کلومیٹر رہ گیا تھا اور 2020 میں جب یہ انٹارکٹیکا کے ساحل پر موجود تھا، تو اس کا مجموعی رقبہ 6 ہزار مربع کلومیٹر سے بھی زیادہ تھا۔
تحقیق کے مطابق اس کی سطح پر گہرے نیلے رنگ کے پانی کے تالاب بن گئے تھے جس نے اس کی اندرونی ساخت کو کمزور کر دیا، تاہم بادلوں کی کثرت کی وجہ سے سیٹلائٹ اس کے آخری لمحات کی مکمل تصاویر لینے میں بھی ناکام رہے۔
محکمہ موسمیات کے ماہر یان لیزر کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں بادلوں نے اس دم توڑتے برفانی تودے کو ڈھانپ لیا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے قدرت اس کے آخری لمحات کو دنیا کی نظروں سے چھپا رہی ہو۔
حالیہ برسوں میں سیٹلائٹس کے ذریعے اس تودے کی شکل میں تبدیلی اور سمندری ماحولیاتی نظام پر اس کے اثرات کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا بازوں نے بھی اس کی کئی قریبی تصاویر لیں۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سابق پروفیسر کرسٹوفر شومان نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سینسرز کی بدولت ہم برفانی تودوں کی کہانی بیان کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ان کوششوں سے انٹارکٹیکا کے گرد برفانی نقل و حرکت سمجھنا آسان ہوا۔
کئی دہائیوں کے مشاہدات کے باوجود سائنسدان اب بھی برفانی تودوں کی حرکت اور ٹوٹنے کے عمل پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سمندری لہروں، تہہ کی ساخت اور پانی کے گرداب کے کردار کا گہرا مطالعہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ بڑے برفانی تودوں سے ٹوٹنے والے چھوٹے ٹکڑے ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان چھوٹے ٹکڑوں کی نگرانی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور یہ بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔