اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ہرمزبندش:ینبع سے جنوبی کوریا کاپہلا تیل بردار جہاز بحیرہ احمر سے روانہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ینبع سے بحیرہ احمر کے راستے روانہ ہونے والا تیل بردار جہاز
(فوٹو: انٹرنیٹ)

جنوبی کوریا کا ایک تیل بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پہلی بار بحیرہ احمر کے راستے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل لے کر نکلنے والا یہ جہاز بحیرہ احمر کو بحفاظت عبور کرنے میں کامیاب رہا۔

جنوبی کوریا کی وزارت سمندر و ماہی گیری کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ملک کے لیے خام تیل کی ترسیل بحیرہ احمر کے متبادل راستے سے کی جا رہی ہے۔ 

اس اہم پیش رفت کی تصدیق جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 

یونہاپ نے بھی اپنی رپورٹ میں کی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی سرگرمیوں کے باعث بحیرہ احمر کو جہاز رانی کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ 

اکتوبر 2023 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز سے اب تک اس خطے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے تقریباً 79 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

yanba port
(سعودی ینبع بندرگاہ ۔ فوٹو: عرب میڈیا)

جنوبی کوریا کی حکومت نے اس جہاز اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے 24 گھنٹے مانیٹرنگ اور براہ راست مواصلاتی روابط بھی قائم رکھے۔

واضح رہے کہ اس حوالے سے 6 اپریل کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں بحیرہ احمر کے ذریعے خام تیل کی محفوظ فراہمی کے لیے ایک جامع پلان پر بھی تفصیلی غور کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے اس کا بحری محاصرہ ختم نہ کیا تو وہ بحیرہ احمر، خلیج عرب اور خلیج عمان میں جہاز رانی روک سکتا ہے۔ 

یہ کشیدگی اسلام آباد میں جوہری پروگرام پر ایران امریکہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

اُدھر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے عالمی معاشی ترقی کی شرح میں کمی اور توانائی کے تاریخی بحران کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ 

دوسری جانب قطر نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات عالمی سطح پر مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

strait of hormuz
(فوٹو: سبق)

شپنگ ڈیٹا کے مطابق پاکستان کا تیل بردار جہاز ’شالیمار‘متحدہ عرب امارات سے خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہا ہے۔ 

یہ جہاز 4 لاکھ 40 ہزار بیرل ’داس‘ خام تیل لے کر کراچی کی جانب گامزن ہے جہاں 19 اپریل کو پہنچے گا۔

پاکستانی جہاز ان 2 ٹینکرز میں شامل تھا جو اتوار کو تیل کی لوڈنگ کے لیے آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے تھے۔ 

پاکستانی وزیر پٹرولیم کے مطابق اس جہاز نے ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کے ٹرمینل سے خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات حاصل کی ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی بحریہ نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز کا محاصرہ شروع کیا ہے تاکہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے۔ 

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 14 بحری جہازوں کو مشتبہ سرگرمیوں کی بنیاد پر امریکی فورسز نے واپس بھیج دیا ہے۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ محاصرے کا دائرہ کار اب ان جہازوں تک پھیلا دیا گیا ہے جن کا سامان ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ 

اس دوران کسی بھی ایسے جہاز کی تلاشی لی جا سکتی ہے جس پر ایرانی حدود تک رسائی کی کوشش کا شبہ ہو گا تاکہ سیکیورٹی برقرار رہے۔