امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں امریکی کمپنیوں کی کاروباری نتائج پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق کارپوریٹ مالیاتی گوشواروں سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے اثرات تمام شعبوں پر یکساں نہیں رہے، جس سے عالمی منڈیوں میں ایک نئی تقسیم جنم لے رہی ہے۔
توانائی کے شعبے میں بحران اور چیلنجز
جنگ میں توانائی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں قیمتوں میں اضافے کے باوجود آپریشنل مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
’ایکسن موبل‘ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کے اثاثے عالمی پیداوار کا 20 فیصد ہیں۔ مارچ میں شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث کمپنی کی عالمی پیداوار میں 6 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
اسی طرح ’ایس ایل بی‘ (SLB) نے بھی اپنے سہ ماہی نتائج میں تنزلی کی توقع ظاہر کی ہے اور مشرق وسطیٰ میں آپریشنز اور نقل و حمل میں تعطل کے باعث کمپنی کے فی شیئر منافع میں 6 سے 9 سینٹ تک کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کمپنیوں کے لیے یہ ایک تضاد ہے کہ قیمتیں بڑھنے کے باوجود آپریشنل حجم اور شپنگ میں رکاوٹیں منافع کو نگل رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی مارکیٹ
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی عالمی منڈیاں شدید غیریقینی کا شکار ہیں۔ ہرمز، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی گزرتی ہے، کی بندش نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
ریور پرائم کی ماہر اسیل العرانکی کا کہنا ہے کہ کشیدگی جاری رہنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی عالمی معیشت پر دباؤ بڑھائے گی۔
ہوابازی اور ٹریول انڈسٹری پر دہرا بوجھ
ہوابازی کا شعبہ اس وقت دہرے بوجھ تلے دبا ہے۔ ڈیلٹا ایئرلائنز نے پہلی سہ ماہی میں 14.2 ارب ڈالر آمدن کے باوجود دوسری سہ ماہی کے لیے ایندھن کی مد میں 2 ارب ڈالر سے زائد اضافی اخراجات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اسی طرح کارنیول (Carnival) کمپنی نے بھی ایندھن اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے 54 ملین ڈالر کے نقصان کا اعتراف کیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایئرلائنز ایندھن کے مہنگے دام اور کم ہوتی ہوئی طلب کے باعث ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھانے اور پروازوں میں کمی پر مجبور ہیں۔ اگر یہ تناؤ مزید طویل ہوا تو مستقبل کے توسیعی منصوبوں پر نظرثانی ناگزیر ہوگی۔
کشیدہ صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہوابازی کی صنعت اب صرف سفری طلب کے بحران سے نہیں، بلکہ آپریشنل اخراجات کے دباؤ سے بھی نبرد آزما ہے۔
امریکی بینکوں کے لیے منافع کا دور
توانائی اور ہوابازی کے برعکس وال اسٹریٹ کے بڑے اداروں نے غیر معمولی منافع کمایا ہے۔
گولڈمین ساکس ، جے پی مورگن، سٹی اور ویلز فارگو جیسے بینکوں نے ٹریڈنگ سرگرمیوں اور سرمایہ کاری خدمات کے ذریعے بھاری کمائی کرلی۔ جے پی مورگن نے 16.49 ارب ڈالر، سٹی نے 5.79 ارب ڈالر اور ویلز فارگو نے 5.25 ارب ڈالر کا منافع درج کیا ہے۔
اسیل العرانکی کے مطابق بینکوں کی یہ کامیابی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور ان کی محتاط رسک مینجمنٹ پالیسیوں کا نتیجہ ہے، تاہم یہ منافع عارضی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
گولڈمین ساکس سمیت دیگر بینکوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کی بلند قیمتیں اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام برقرار رہا تو یہ امریکی صارفین کی قوت خرید اور مجموعی ملکی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا۔
مستقبل کا منظر نامہ
مجموعی طور پر یہ جنگ امریکی کارپوریٹ دنیا کے لیے تقسیم کا باعث بنی ہے، جہاں مالیاتی ادارے وقتی طور پر ٹریڈنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہیں پیداواری اور سروسز کے شعبے طویل مدتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو یہ کاروباری دباؤ ان تمام شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جو ابھی تک مستحکم دکھائی دے رہے ہیں۔