تاجکستان میں ایران کے سفارت خانے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے ایکس پر ایک طنزیہ ویڈیو شیئر کرنے کے بعد شدید تنازع کھڑا کر دیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ اقدام اُن دنوں سامنے آیا جب ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ایک تصویر وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ انداز میں پیش کرتے دکھائی دیئے تھے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جو تصویر شیئر کی، اس میں وہ مذہبی علامتوں اور تاثرات کے ساتھ ایک ایسے کردار میں نظر آئے جو ’شفا دینے‘ کے تصور سے قریب تھا۔
یہ منظر مغربی ثقافت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روایتی عکاسی سے مشابہ تھا، جس پر تنقید کی گئی، خصوصاً اس وجہ سے کہ سیاسی بیانیے میں مذہب کے استعمال کو حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
اس کے ردعمل میں ایران کے سفارت خانے نے ایک طنزیہ ویڈیو دوبارہ شیئر کی، جس میں ابتدائی منظر میں ٹرمپ کو اسی علامتی انداز میں دکھایا گیا لیکن بعد میں منظر ڈرامائی طور پر بدل جاتا ہے۔
— Iran Embassy in Tajikistan (@IRANinTJ) April 14, 2026
ویڈیو میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی ایک شخصیت کو ان کے پیچھے ظاہر ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو انہیں مارتے ہوئے جہنم میں پھینک دیتی ہے۔
یہ ویڈیو چند ہی گھنٹوں میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھی گئی اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید تقسیم پیدا کر دی۔
کچھ افراد نے اسے سیاسی طنز قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے سفارتی حدود سے تجاوز اور مذہبی توہین سمجھا۔
ایرانی طنز کا تسلسل
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایرانی سرکاری اکاؤنٹس، بشمول سفارت خانے، نے ٹرمپ پر سوشل میڈیا کے ذریعے طنز کیا ہو۔
حالیہ عرصے میں ایسے اکاؤنٹس مسلسل ایسے مواد شیئر کرتے رہے ہیں جن میں طنزیہ یا جارحانہ انداز اپنایا گیا، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
یہ طنز اُس وقت مزید بڑھ گیا جب ایرانی سفارت خانوں کے اکاؤنٹس نے امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے مطالبے سے متعلق ٹویٹس کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے یہ کہہ کر مذاق اڑایا کہ تہران ’چابیاں کھو بیٹھا ہے‘۔
اس طنزیہ مہم میں متعدد ایرانی سفارت خانوں نے حصہ لیا، جسے سوشل میڈیا پر خاصی پذیرائی بھی ملی۔