اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

اسٹینفورڈ انڈیکس: سعودی عرب AI میں نمبر ون

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب مصنوعی ذہانت کے عالمی انڈیکس میں متعدد شعبوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے (فوٹو: سبق)

سعودی عرب نے ملک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سکیورٹی، پرائیویسی اور انکرپشن کے میدان میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے جبکہ مصنوعی ذہانت میں خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ 

یہ بات اسٹینفورڈ انسٹی ٹیوٹ آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے 2026 کے AI انڈیکس کے مطابق سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ عالمی سطح پر نمایاں کامیابی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب میں اس شعبے کو قیادت کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ 

یہ پیش رفت سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی ’سدايا‘ کی ان کوششوں کی بھی توثیق کرتی ہے جن کا مقصد ایک مسابقتی قومی نظام قائم کرنا ہے جو مملکت کو ڈیٹا اور AI کے شعبے میں ترقی یافتہ معیشتوں کی صف میں شامل کرے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب AI صلاحیتوں کی شرح کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جبکہ جنریٹو AI استعمال کرنے والے طلبہ کے تناسب میں بھی تیسرے نمبر پر ہے۔ 

human like robot and artificial intelligence 2026 01 06 00 52 42 utc

یہ تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے وسیع پیمانے پر فائدے کو ظاہر کرتا ہے، جس میں SMAI سمیت مختلف تربیتی اقدامات شامل ہیں، جن کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقات کو AI مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔

AI ماہرین کو راغب کرنے کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے عالمی سطح پر چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ سعودی مارکیٹ تیزی سے پرکشش بن رہی ہے اور نجی شعبہ اس میدان میں موجود مواقع پر اعتماد ظاہر کر رہا ہے۔ 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ AWS اور HUMAIN کے درمیان 5 ارب ڈالر کی ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد AI کے لیے جدید انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔

businessperson hand pointing at abstract blue ai c 2026 01 11 08 36 44 utc

مزید برآں سعودی عرب نے 2019 سے 2025 کے دوران AI مہارتوں میں دنیا کی سب سے زیادہ شرحِ نمو حاصل کی ہے، جو 100 فیصد سے زائد رہی ہے۔ 

یہ ظاہر کرتا ہے کہ مملکت عالمی سطح پر ماہرین کو متوجہ کرنے اور تکنیکی ترقی میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کام کی جگہوں پر بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال وسیع ہو چکا ہے، جہاں 80 فیصد سے زائد ملازمین اسے باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ عالمی اوسط 58 فیصد ہے۔

یہ تمام پیش رفت سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کو ظاہر کرتی ہے، جو 2030 وژن کے اہداف کے مطابق ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کی ترقی میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔