اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

’اے آئی کو ڈاکٹر ہرگز نہ سمجھیں‘ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اے آئی طبی تشخیص خطرات اور چیٹ بوٹس ناکامی رپورٹ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے عالمی استعمال کے باوجود ایک نئی طبی تحقیق نے چیٹ بوٹس کی کارکردگی پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

مزید پڑھیں

تحقیق کے مطابق ابتدائی مراحل میں بیماریوں کی تشخیص کے دوران مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس 80 فیصد سے زائد کیسز میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

طبی جریدے ’جاما نیٹ ورک اوپن‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ڈاکٹروں پر اندھا دھند انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

مطالعے سے معلوم ہوا کہ محدود ڈیٹا کی صورت میں یہ روبوٹس درست طبی مشورہ دینے میں شدید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

اے آئی طبی تشخیص خطرات اور چیٹ بوٹس ناکامی رپورٹ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور میساچوسٹس کے طبی ادارے ’ماس جنرل بریگھم‘ کی محققہ آریہ راؤ کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز مکمل ڈیٹا کی موجودگی میں تو بہتر نتائج دیتے ہیں، لیکن معلومات کی کمی یا ابہام کی صورت میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہتی ہے۔

ماہرین نے اس تجربے کے لیے 29 فرضی طبی کیسز کا انتخاب کیا جن میں مریضوں کی ہسٹری، معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج مرحلہ وار فراہم کیے گئے۔ 

اس دوران 21 مختلف اے آئی ماڈلز سے سوالات پوچھے گئے تاکہ ان کی طبی درستگی کا معیار جانچا جا سکے۔

اس مطالعے میں اوپن اے آئی، گوگل، اینتھروپک، ایکس اے آئی اور ڈیپ سیک جیسے بڑے اداروں کے تیار کردہ معروف چیٹ بوٹس شامل تھے۔ 

نتائج سے ظاہر ہوا کہ معلومات ادھوری ہوں تو ان تمام ماڈلز کی ناکامی کی شرح 80 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔

اے آئی طبی تشخیص خطرات اور چیٹ بوٹس ناکامی رپورٹ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

رپورٹ کے مطابق جب ڈیٹا مکمل ہو تو ان روبوٹس کی ناکامی کی شرح کم ہو کر 40 فیصد رہ جاتی ہے اور بہترین ماڈلز 90 فیصد تک درستگی دکھاتے ہیں۔

تاہم ابتدائی علامات کی بنیاد پر مختلف ممکنہ بیماریوں کی نشاندہی کرنے میں یہ ٹیکنالوجی فی الحال ناکام ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اس حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔ 

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ان کا ماڈل ’کلاڈ‘ صارفین کو ماہرین سے رجوع کرنے کی ہدایت دیتا ہے، جبکہ گوگل کے ’جیمنائی‘میں بھی معلومات کی دوبارہ تصدیق کے لیے باقاعدہ یاد دہانیاں موجود ہیں۔

اسی طرح اوپن اے آئی کی پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کی خدمات کو پیشہ ورانہ طبی مشورے کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ 

کمپنی کے مطابق کسی بھی طبی فیصلے کے لیے مستند ماہرین اور لائسنس یافتہ ڈاکٹروں کی مشاورت اور شمولیت لازمی ہونی چاہیے۔