اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

’واٹس ایپ پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا‘ ایلون مسک کے سنگین الزامات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
واٹس ایپ پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا، ایلون مسک اور پاول دوروف کے سنگین الزامات
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک نے واٹس ایپ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ میٹا کی ملکیت اس ایپ پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق ایلون مسک نے صارفین کو متبادل کے طور پر ایکس استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایلون مسک نے اپنے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ ایکس پر پیغامات، آڈیو اور ویڈیو کالز کا تبادلہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔

ان کا یہ ردعمل واٹس ایپ کے خلاف امریکہ میں دائر ہونے والی ایک بڑی قانونی چارہ جوئی کے بعد سامنے آیا ہے جس نے ہلچل مچا دی ہے۔

واٹس ایپ پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا، ایلون مسک اور پاول دوروف کے سنگین الزامات
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دوسری جانب ٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف بھی اس بحث میں شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے واٹس ایپ کے انکرپشن سسٹم کو صارفین کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ اپنے دعووں کے برعکس صارفین کے پیغامات پڑھتا اور شیئر کرتا ہے۔

پاول نے مزید کہا کہ ٹیلی گرام نے کبھی صارفین کے نجی ڈیٹا کے ساتھ ایسا نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرے گا۔ 

یاد رہے کہ یہ تنازع اُس وقت زیادہ شدت اختیار کر گیا، جب کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت میں میٹا کے خلاف اجتماعی مقدمہ دائر کیا گیا۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ واٹس ایپ نے صارفین کی مرضی کے بغیر تھرڈ پارٹی ڈویلپرز اور تجزیاتی کمپنیوں کو نجی پیغامات تک رسائی دی ہے۔ 

دعوے کے مطابق گوگل اور ایمیزون جیسی بڑی کمپنیوں کو بھی صارفین کا ڈیٹا فراہم کیا گیا جو کہ سنگین خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزاروں کا مزید کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے ڈیلیٹ کیے جانے کے باوجود پیغامات مہینوں تک ڈویلپرز کے سرورز پر محفوظ رہتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ تھرڈ پارٹی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے صارفین کے جذبات کا تجزیہ کرنے کے سنگین الزامات بھی واٹس ایپ پر عائد کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب میٹا نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ 

کمپنی کا مؤقف ہے کہ واٹس ایپ پر تمام پیغامات اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی بھی بیرونی فریق کو ان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔