اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ٹرمپ پالیسی: ایران جنگ سے اربوں کس نے کمائے؟ تجوریاں کیسے بھریں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران جنگ منافع اور تیل قیمت اضافہ تجزیہ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مارچ کے وسط میں جب ایران کے خلاف جنگ کو 2 ہفتے گزر چکے تھے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک متنازع بیان نے عالمی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق یہ بیان محض سیاسی نہیں تھا بلکہ اس نے ایک گہری حقیقت کو بھی بے نقاب کیا ہے۔

ٹرمپ کے بیان سے پتا چلا کہ کس طرح امریکہ، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے برطانوی سلطنت کے وارث کے طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں کا محافط ہے، اس جنگ کو اپنے معاشی مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

آج آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 70 ڈالر سے بڑھ کر 110 ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جس نے دنیا کو مہنگائی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

ایران امریکی محاصرہ دھمکی کے بعد آبنائے ہرمز صورتحال
(فوٹو: انٹرنیٹ)

خسارہ اور منافع: عالمی بساط

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جہاں چین، جاپان اور دیگر درآمد کنندگان کو شدید نقصان پہنچا ہے، وہیں امریکی معیشت بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔

اگرچہ امریکہ اپنے ’شیل آئل‘ کی بدولت تیل میں خود کفیل ہے، لیکن تیل ایک عالمی جنس (Commodity) ہے،  جب خلیج میں قیمت بڑھتی ہے تو امریکی خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتیں بھی خود بخود اوپر جاتی ہیں۔ 

اس منظرنامے میں اصل ’فاتح‘ وہ کمپنیاں ہیں جو اس اضافے کو براہِ راست منافع میں بدل رہی ہیں۔

امریکی کمپنیاں: میدانِ جنگ کی اصل فاتح

حیرت انگیز طور پر جب دنیا کے دیگر حصوں میں سپلائی رکتی ہے، تو امریکی کمپنیوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔

2025 میں امریکہ یومیہ 13.5 ملین بیرل تیل پیدا کر کے دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ قدرتی گیس کی عالمی تجارت میں بھی امریکہ 22 فیصد حصے کے ساتھ روس سے کہیں آگے ہے۔

  • تازہ مثال: 2022ء میں یوکرین جنگ کے دوران عالمی تیل کمپنیوں نے 916 ارب ڈالر کمائے، جس میں سے ایک تہائی (301 ارب ڈالر) صرف امریکی کمپنیوں کا حصہ تھا۔
  • ریکارڈ منافع: اسی دور میں ’ایکسن موبیل‘ نے 56 اور ’شیورون‘ نے 36.5 ارب ڈالر کا تاریخی منافع کمایا۔

موجودہ جنگ میں بھی، جب مشرقِ وسطیٰ کا تیل رُکتا ہے، تو امریکی تیل کی طلب اور قیمت فوراً بڑھ جاتی ہے، جس سے ان کمپنیوں کے ’پرافٹ مارجنز‘ 40 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔

پردے کے پیچھے: شکاگو اور لندن کے ایجنٹ

تیل صرف ایک جلنے والا مادہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ’مالیاتی پروڈکٹ‘ (Financial Product) ہے جس کی قیمت کا تعین سمندروں کے بجائے شکاگو اور لندن کی ایکسچینجز میں ہوتا ہے۔

  • شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج: یہاں خام تیل کے مستقبل کے سودے طے پاتے ہیں۔
  • لندن ایکسچینج: یہ ’برینٹ کروڈ‘ کی قیمتوں کا مرکز ہے۔

ان مراکز میں بیٹھے ’ہیج فنڈز‘ اور سرمایہ کار جنگ کی خبروں پر جوا کھیلتے ہیں۔

مثال کے طور پر 24 مارچ کو ٹرمپ کی ایک ٹویٹ (جس میں انہوں نے حملے مؤخر کرنے کا کہا) سے محض چند منٹ پہلے 60 لاکھ بیرل کے سودے ہوئے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقے معلومات کے ذریعے منٹوں میں اربوں کما لیتے ہیں۔

ٹرمپ ایران جنگ منافع اور تیل قیمت اضافہ تجزیہ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دولت کی منتقلی: بلیک راک اور وینگارڈ کا اثر و رسوخ

اس پورے نظام کا نچوڑ یہ ہے کہ تیل دنیا میں کہیں بھی نکلے، اس کا منافع گھوم پھر کر امریکی مالیاتی اداروں کی جیب میں جاتا ہے۔

بلیک راک (BlackRock)، وینگارڈ (Vanguard) اور اسٹیٹ اسٹریٹ (State Street) جیسے اثاثہ مینیجرز عالمی توانائی کے شعبے کے سب سے بڑے حصے دار ہیں۔ 

یہ کمپنیاں بیک وقت مدمقابل کمپنیوں کے شیئرز رکھتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ اوپر جائے یا نیچے، یہ ہر صورت میں نفع کماتی ہیں۔

امیر امیر تر اور غریب غریب تر

ایک حالیہ تحقیقی مقالے (سائنس ڈائریکٹ) کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہونے والا منافع کبھی بھی عام عوام تک نہیں پہنچتا۔ 2022 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ:

  • تیل کے کل منافع کا 50 فیصد دنیا کے امیر ترین ایک فیصد لوگوں کے پاس گیا، جبکہ 84 فیصد منافع امیر ترین 10 فیصد کے حصے میں آیا۔
  • امریکہ کے غریب ترین 50 فیصد عوام کو ان منافعوں کا محض ایک فیصد ملا۔

یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ دراصل دولت کو نچلے طبقے سے چھین کر اوپر کے طبقے تک منتقل کرنے کا ایک خودکار طریقہ ہے۔

حتیٰ کہ سفید فام امریکی خاندانوں نے ان منافعوں کا 87 فیصد حاصل کیا، جبکہ افریقی اور لاطینی نژاد امریکیوں کے حصے میں صرف چند ’پینشن فنڈز‘ کے فوائد آئے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف یہ جنگ محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ’نیو لبرل کیپٹل ازم‘ کا وہ چہرہ ہے جہاں جنگ کے شعلے عام آدمی کا چولہا ٹھنڈا کرتے ہیں اور شکاگو و لندن کے ایجنٹوں کے بینک بیلنس میں اضافہ کرتے ہیں۔ 

توانائی کے نرخوں کا یہ دھندہ عالمی معیشت کے لیے ایک زہر ہے، لیکن بلیک راک جیسے اداروں کے لیے یہ ’بڑا گیم‘ہے جو خون کو سونے میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔