عالمی منڈیوں میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے بڑھتے ہوئے امکانات پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا نتیجہ ہے۔
اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی خواہش کو تقویت دی اور مختلف براعظموں میں اسٹاک مارکیٹس میں نئی جان ڈال دی۔
مزید پڑھیں
یہ منافع ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جیوپولیٹیکل کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندی نافذ کی گئی ہے تاہم مارکیٹس نے زیادہ توجہ اس اشارے پر دی کہ سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور تنازع کے مستقل حل کے امکانات موجود ہیں، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی اسٹاک فیوچرز نے وال اسٹریٹ میں مثبت رفتار کو برقرار رکھا۔
ایس اینڈ پی 500 سے منسلک فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج کے فیوچرز میں 70 پوائنٹس ’0.14 فیصد‘ کا اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح نیسڈیک 100 فیوچرز میں 0.34 فیصد اضافہ ہوا۔
امریکی اسٹاک فیوچرز کی مضبوط کارکردگی
یہ کارکردگی اس وقت سامنے آئی جب امریکی مارکیٹ میں ایک مضبوط سیشن دیکھا گیا، جس میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1 فیصد بڑھ کر 6886.24 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
ڈاؤ جونز میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 1.2 فیصد بڑھا۔
ان منافع نے جنگ کے آغاز کے بعد ہونے والے نقصانات کا ازالہ کر دیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد سفارتکاری کے ذریعے تنازع کے خاتمے پر برقرار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اس امید کو مزید تقویت دی، جنہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کی جانب سے رابطہ موصول ہوا ہے جو معاہدے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
اس سے آئندہ عرصے میں سیاسی سمجھوتے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیاں بھی تیز
یہ مثبت رجحان ایشیائی منڈیوں تک بھی پھیل گیا، جہاں وال اسٹریٹ کی تیزی اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امیدوں نے نمایاں اضافہ کیا۔
جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 2.4 فیصد بڑھ کر 57,842.72 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ 6,004.30 پوائنٹس تک جا پہنچا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔
شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا، اگرچہ چینی برآمدات کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
آسٹریلیا کا S&P/ASX 200 انڈیکس 0.3 فیصد بڑھا جبکہ تائیوان کا TAIEX انڈیکس 2.2 فیصد اوپر گیا۔
اسی دوران ایشیائی کرنسیوں کو بھی اس مثبت ماحول سے فائدہ ہوا، جہاں چینی یوآن نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 3 سال کی بلند ترین سطح حاصل کی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی واضح علامت ہے۔
یورپی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ
یورپی منڈیوں نے بھی کاروبار کے آغاز پر اضافہ دکھایا، جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کی توقعات ہیں، اگرچہ امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر پابندی نافذ ہو چکی ہے۔
اسٹوکس 600 یورپی انڈیکس میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا، برطانوی FTSE 100 میں 0.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جرمنی کا DAX انڈیکس 1.1 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
اسی طرح کا اضافہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی دیکھا گیا جہاں KSE100 انڈیکس نے 3 فیصد سے زیادہ اضافہ دکھایا جبکہ سعودی اسٹاک مارکیٹ کے تاسی انڈیکس میں 0.27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔