آج منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیے جانے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، اگرچہ امریکا نے ایرانی شپنگ کی نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی خام تیل کے مئی میں ترسیل کے معاہدے 2 فیصد سے زائد گر کر 96.91 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ عالمی معیار کا برینٹ خام تیل جون کی ترسیل کے لیے 1.88 فیصد کمی کے ساتھ 97.49 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
مزید پڑھیں
یہ کمی سرمایہ کاروں کی جانب سے ان اثرات کے جائزے کے دوران سامنے آئی جو ایرانی بندرگاہوں پر محاصرے کی صورت اختیار کر رہے ہیں، جبکہ سیاسی اشارے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مکالمے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں، جو انہوں نے ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات سے واپسی کے بعد دیا تھا ’جن میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی‘ کہا کہ امن کوششوں کے آئندہ اقدامات تہران کے مؤقف پر منحصر ہیں۔
انہوں نے کہا آیا ہم مذاکرات جاری رکھتے ہیں یا آخرکار کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں، اس کا زیادہ تر انحصار ایرانی فریق پر ہے، کیونکہ ہم نے بہت کچھ میز پر رکھ دیا ہے۔
وینس نے مزید کہا کہ ممکنہ معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ایران امریکی شرائط کی پابندی کرے، خصوصاً اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکا نے پیر کے روز خلیج میں ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے سے متعلق اقدامات کا آغاز کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز پر محاصرہ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے بعد ایک شدید کشیدگی کی علامت ہے۔