اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کیسا ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، جو غالب امکان ہے کہ جمعرات کو منعقد ہو یا پھر اگلے ہفتے کے شروع میں۔

یہ صورتحال نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جس میں بتدریج فوجی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کے ساتھ ساتھ محتاط سفارتی کھلے پن کے اشارے بھی شامل ہیں۔ 

یہ باہم متداخل عوامل مذاکراتی عمل کو ایک فیصلہ کن موڑ پر لے آئے ہیں جو ممکنہ طور پر تنازع کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

اس تناظر میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ نئے دور کے انعقاد کے لیے رابطے بدستور جاری ہیں تاہم مقام کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ 

جنیوا اور اسلام آباد کو ممکنہ مقامات کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے جبکہ جنگ بندی کے خاتمے سے قبل کسی پیش رفت کے حصول پر توقعات بڑھتی جا رہی ہیں۔

واشنگٹن سے الجزیرہ کے نمائندے ناصر الحسینی نے بتایا ہے کہ دستیاب معلومات مختلف سفارتی ذرائع کی لیکس پر مبنی ہیں، جن کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری رکھنے کی واضح خواہش موجود ہے تاکہ وسیع تر تصادم سے بچا جا سکے، اگرچہ ان کے مؤقف میں نمایاں اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

5464546
( فوٹو: العربیہ)

انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ گفتگو کا محور آئندہ دور کے انتظامی و لاجسٹک پہلو اور ایجنڈا ہے، جبکہ جنیوا کو رسائی میں آسانی اور وفود کے سفر کے وقت میں کمی کی وجہ سے زیادہ عملی آپشن سمجھا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں امریکی بیانیے کے انداز میں نسبتاً تبدیلی دیکھی گئی ہے، جہاں فوجی دباؤ میں اضافے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی اہمیت پر بار بار زور دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دباؤ کو منظم انداز میں سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے بغیر سفارتی راستہ بند کئے۔

حتمی پیشکش

دوسری جانب، واشنگٹن میں الجزیرہ کے نمائندے احمد الرہید نے بتایا کہ متوقع دور جمعرات کو واقعی منعقد ہو سکتا ہے، جیسا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے تاہم ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ مذاکرات براہ راست ہوں گے یا بالواسطہ، اور ان کی مدت کیا ہوگی، کیونکہ امریکی فریق جانتا ہے کہ اختلافی معاملات کا فوری حل آسان نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی موقف میں سب سے نمایاں بات نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کو حتمی پیشکش دینا ہے، جس میں سخت شرائط شامل ہیں، جن میں سرفہرست ایران میں یورینیم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ اور افزودہ ذخیرے کو ملک سے باہر منتقل کرنا ہے۔

03b7354b c26b 40ff 8948 2dc06fc53535 2026 04 11

ان کے مطابق ان شرائط کے ساتھ یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے، اور اسے جنگ بندی معاہدے کا حصہ بنایا جائے، جو جوہری مسئلے اور عالمی توانائی سلامتی کے درمیان براہِ راست ربط کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بھی ایک اضافی دباؤ کے طور پر جاری ہے، جس کا مقصد ایران کی معاشی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اسے رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے، خاص طور پر اس کے تیل پر انحصار کے پیش نظر۔

دباؤ صرف اقتصادی نہیں بلکہ عسکری بھی ہے، کیونکہ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، جس میں اضافی طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی شامل ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سفارتی ناکامی کی صورت میں فوجی آپشن بھی زیر غور ہو سکتا ہے۔

بنیادی نکات

ایران میں الجزیرہ کے نمائندے عامر لافی نے بتایا کہ صورتحال میں تیزی سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جن کی قیادت علاقائی اور بین الاقوامی فریقین کر رہے ہیں، تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور توانائی کی ترسیل کو برقرار رکھا جا سکے، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے پیش نظر۔

232844a4 4f99 48dd a814 9a428ece0cca 2026 04 14

انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے متعدد بااثر ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ تہران رابطے کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، اگرچہ ابھی تک نئے مذاکراتی دور کے مقام یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر رہا تاہم وہ اپنی بنیادی شرائط پر قائم ہے، جن میں یورینیم کی مکمل افزودگی سے دستبرداری سے انکار شامل ہے البتہ وہ اس کی شرح میں کمی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے مطابق جوہری پروگرام کو پرامن رکھا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہی معاملہ اور آبنائے ہرمز کا مسئلہ مذاکرات کی دو بڑی رکاوٹیں ہیں، کیونکہ ایران اس آبنائے کے انتظام میں امریکہ کے کسی کردار کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔

ان کے مطابق بعض ایرانی حکام درمیانی راستے تک پہنچنے کی بات کر رہے ہیں، اگر امریکہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی یا ریلیف دینے پر آمادگی ظاہر کرے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب زمینی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ 

امریکہ اپنی فوجی اور اقتصادی برتری کو مذاکراتی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران وقت کے عنصر اور دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت پر انحصار کر رہا ہے۔

654564564 1

اسی دوران امریکہ کی دیگر علاقائی سرگرمیاں، جیسے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی میزبانی، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ خطے کے توازن کو دوبارہ ترتیب دینے کی وسیع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا بالواسطہ دباؤ ایران پر بھی پڑ رہا ہے۔

اگر جمعرات کو یہ دور واقعی منعقد ہوتا ہے تو یہ دونوں فریقین کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا کہ آیا وہ کشیدگی کو موقع میں بدل سکتے ہیں یا نہیں، ایک ایسے وقت میں جب ایک طرف امریکہ کی حتمی پیشکش اور متعدد دباؤ موجود ہیں، اور دوسری طرف ایران اپنی خودمختاری اور جوہری پروگرام پر سخت مؤقف رکھتا ہے۔