اہم خبریں
21 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایران: واشنگٹن کے ساتھ ایک ہی اجلاس میں معاہدہ ممکن نہیں تھا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

ایران نے اتوار کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہیں ہوئے، اور یہ کہ ایک ہی ملاقات میں اتفاق رائے تک نہ پہنچنا معمول کی بات ہے۔ 

تہران نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے ساتھ رابطے جاری رہیں گے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مذاکرات میں امریکہ کے ساتھ بعض نئے امور، جیسے آبنائے ہرمز، پر بھی بات ہوئی۔ 

بیان کے مطابق کچھ نکات پر فریقین کے درمیان سمجھوتہ ہوا جبکہ دو اہم معاملات پر اختلاف برقرار رہا۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کے مطابق تہران کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایک ہی دور میں معاہدہ ہو جائے گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے واشنگٹن کے ساتھ کئی نکات پر مفاہمت کی ہے، لیکن دو اہم مسائل پر اختلاف برقرار ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو یقین ہے کہ پاکستان اور خطے کے دیگر دوست ممالک کے ساتھ رابطے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

دوسری جانب، پاکستان کے وزیر خارجہ نے واشنگٹن اور تہران دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری جاری رکھیں، باوجود اس کے کہ مذاکرات جنگ کے خاتمے کے لیے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جن کی حکومت نے ان مذاکرات کی میزبانی کی، نے سرکاری میڈیا کو دیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ’دونوں فریقوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنگ بندی کے اپنے وعدے پر قائم رہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان آئندہ دنوں میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے اور مذاکرات کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا‘۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے پر ختم نہیں ہوئے اور وہ تہران کو ’حتمی اور بہترین پیشکش‘ دے کر اسلام آباد سے واپس جا رہے ہیں۔ 

انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ اب بھی ایران کو پیشکش پر غور کے لیے وقت دے رہا ہے، جبکہ واشنگٹن نے منگل کو اپنے حملے ایک ہفتے کے لیے روک دیے تھے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔