اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایران امریکہ مذاکرات؛ فریقین کے اہم نکات اور مطالبات سامنے آ گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران اور امریکا کے درمیان مشکل ترین ثالثی، اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی ہے جس کا مقصد 6 ہفتوں سے جاری کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہے۔

مزید پڑھیں

اسرائیل اور امریکا کے ایران پر مشترکہ حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والے کشیدہ حالات میں ہزاروں جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

اس کے علاوہ عالمی معیشت سمیت توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کا بنیادی مطالبہ لبنان میں جنگ بندی اور تہران پر عائد معاشی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

اس سلسلے میں ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں میں مارچ سے اب تک 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لہذا جنگ بندی ناگزیر ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کی صورتحال کا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

اسلام آباد میں جاری ایران امریکہ مذاکرات کے مطالبات اور اہم نکات پر مبنی معلوماتی گرافک یا تصویر
(فوٹو: ایکس)

واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں میں نرمی صرف ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں میں رعایت کے بدلے ہی ممکن ہے۔

ایک اور اہم نکتہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول بھی ہے، جہاں ایران عبور کرنے کی فیس وصول کرنے کا خواہاں ہے۔

اس کے برعکس امریکہ کا مطالبہ ہے کہ تیل بردار جہازوں کی نقل و حمل بغیر کسی رکاوٹ اور فیس کے ہونی چاہیے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

اسی طرح ایران نے 6 ہفتوں پر محیط جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے بدلے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاہم امریکی حکام نے اس پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ 

جوہری افزودگی اور میزائل پروگرام کے معاملات پر بھی دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ناقابل مذاکرات ہے، جبکہ ایران اپنی میزائل صلاحیت کو دفاعی ضرورت قرار دیتا ہے۔ 

اسلام آباد میں جاری ایران امریکہ مذاکرات کے مطالبات اور اہم نکات پر مبنی معلوماتی گرافک یا تصویر
(فوٹو: ایکس)

امریکہ اور اسرائیل ایران کی میزائل طاقت کو محدود کرنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ خطے میں سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

علاوہ ازیں ایران خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کے معاہدے کا مطالبہ کر رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امن معاہدے تک امریکی فوجی قوت مشرق وسطیٰ میں موجود رہے گی۔

امریکی صدر نے اپنی  بات مکمل کرتے ہوئے ایران کی جانب سے مطالبات نہ ماننے پر کشیدگی بڑھنے کا سخت انتباہ بھی دیا ہے۔

مذاکرات سے قبل آج امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔  اس موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔ 

دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ فریقین کے درمیان یہ مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں پاکستان کی ثالثی میں براہ راست طور پر ہو رہے ہیں۔ 

قبل ازیں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ 

اس جنگ بندی کے بعد فریقین کے درمیان دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی گئیں، تاکہ خطے میں استحکام لایا جا سکے۔