اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ٹرمپ میں دھوکے باز نیتن یاہو کو ’نا‘ کہنے کی ہمت نہیں، امریکی صحافی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نیتن یاہو دھوکے باز، میگن کیلی اور پیئرس مورگن کا انٹرویو
میگن کیلی نے ایران کے حوالے سے پیش کردہ اہداف کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

معروف امریکی میزبان میگن کیلی نے ایک انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق برطانوی صحافی پیئرس مورگن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 79 سالہ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے سامنے انکار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

کیلی نے ایک حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے سامنے غیر معمولی انداز میں نشست سنبھالی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ میز کے سربراہ کے بجائے سائیڈ پر بیٹھے، جبکہ 

نیتن یاہو ان کے سامنے موجود تھے، جو ایک مساوی فریق کا تاثر دے رہا تھا۔

میگن کیلی نے سوال اٹھایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی باتوں کو بغیر کسی بحث کے کیوں قبول کیا؟ 

جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کوئی بھی دوسرا امریکی صدر اس  دھوکے باز اور مکار شخص کے جھوٹ کو بے نقاب کر سکتا تھا، مگر ٹرمپ نے ان کے بیانیے کو مکمل طور پر اپنا لیا۔

اس اجلاس کے اگلے ہی روز ٹرمپ کے اعلیٰ مشیروں بشمول چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، وزیر خارجہ اور نائب صدر نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی پیش کردہ معلومات سراسر جھوٹ ہیں، اُن پر ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیے۔

کیلی نے ایران کے حوالے سے پیش کردہ اہداف کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کا دعویٰ محض ایک خالی نعرہ ہے، کیونکہ ایرانی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ پاسداران انقلاب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور سخت گیر ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق سابقہ پالیسی اب ختم ہو چکی ہے اور ملک اقتصادی طور پر مستحکم ہو کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کی 10 نکاتی منصوبہ بندی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

کیلی کے مطابق ٹرمپ نے پہلے ایران کے خلاف تباہ کن دھمکیاں دیں، لیکن بعد میں اپنی ساکھ بچانے کے لیے اُن سے پیچھے ہٹ گئے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ تبدیلیاں انتہائی مختصر وقت میں کی گئیں، جس سے امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد اور کمزوری واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب اِن بیانات پر امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی جمعرات کے روز اِن میڈیا شخصیات پر جوابی حملہ کیا جو ان کی ایران پالیسی پر تنقید کر رہی ہیں، جسے وائٹ ہاؤس اور ناقد میڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں ایک طبقہ میگن کیلی کے مؤقف کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ دوسرا اسے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم قرار دیتا ہے۔ 

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں دراڑ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔