معروف امریکی میزبان میگن کیلی نے ایک انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق برطانوی صحافی پیئرس مورگن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 79 سالہ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے سامنے انکار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
کیلی نے ایک حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے سامنے غیر معمولی انداز میں نشست سنبھالی۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ میز کے سربراہ کے بجائے سائیڈ پر بیٹھے، جبکہ
نیتن یاہو ان کے سامنے موجود تھے، جو ایک مساوی فریق کا تاثر دے رہا تھا۔
میگن کیلی نے سوال اٹھایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی باتوں کو بغیر کسی بحث کے کیوں قبول کیا؟
جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کوئی بھی دوسرا امریکی صدر اس دھوکے باز اور مکار شخص کے جھوٹ کو بے نقاب کر سکتا تھا، مگر ٹرمپ نے ان کے بیانیے کو مکمل طور پر اپنا لیا۔
"There was really no point to going forward - except death and destruction!"
— Piers Morgan Uncensored (@PiersUncensored) April 8, 2026
Megyn Kelly says Trump's two-week ceasefire deal with Iran "sounds like a surrender".
📺https://t.co/YmBEYJtdSA@piersmorgan | @MegynKelly pic.twitter.com/CfaJ9frSVN
اس اجلاس کے اگلے ہی روز ٹرمپ کے اعلیٰ مشیروں بشمول چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، وزیر خارجہ اور نائب صدر نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی پیش کردہ معلومات سراسر جھوٹ ہیں، اُن پر ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیے۔
کیلی نے ایران کے حوالے سے پیش کردہ اہداف کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کا دعویٰ محض ایک خالی نعرہ ہے، کیونکہ ایرانی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ پاسداران انقلاب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور سخت گیر ثابت ہوئی ہے۔
ترامب يهاجم تاكر وزملاءه في نص مطول، وهذا دليل على أنهم يثيرون ضوضاء حوله ويهددون شعبيته، خاصة بعد خوضه الحرب مع إيران. يقول ترامب في نص طويل مليء بالعبث كعادته:
— Tamer | تامر (@tamerqdh) April 9, 2026
أنا أعلم لماذا يحاربني كل من تاكر كارلسون، وميغان كيلي، وكانديس أوينز، وأليكس جونز منذ سنوات، خاصةً لحقيقة أنهم… https://t.co/ljGk7LZSMW pic.twitter.com/FvgUovbjfQ
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق سابقہ پالیسی اب ختم ہو چکی ہے اور ملک اقتصادی طور پر مستحکم ہو کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کی 10 نکاتی منصوبہ بندی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کیلی کے مطابق ٹرمپ نے پہلے ایران کے خلاف تباہ کن دھمکیاں دیں، لیکن بعد میں اپنی ساکھ بچانے کے لیے اُن سے پیچھے ہٹ گئے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ تبدیلیاں انتہائی مختصر وقت میں کی گئیں، جس سے امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد اور کمزوری واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔
"There was really no point to going forward - except death and destruction!"
— Piers Morgan Uncensored (@PiersUncensored) April 8, 2026
Megyn Kelly says Trump's two-week ceasefire deal with Iran "sounds like a surrender".
📺https://t.co/YmBEYJtdSA@piersmorgan | @MegynKelly pic.twitter.com/CfaJ9frSVN
دوسری جانب اِن بیانات پر امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھی جمعرات کے روز اِن میڈیا شخصیات پر جوابی حملہ کیا جو ان کی ایران پالیسی پر تنقید کر رہی ہیں، جسے وائٹ ہاؤس اور ناقد میڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں ایک طبقہ میگن کیلی کے مؤقف کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ دوسرا اسے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم قرار دیتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں دراڑ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
#عاجل_الان مقدمة البرامج الأمريكية ميغين ماري كيلي تقول إن الرئيس ترمب لا يستطيع قول "لا" لرئيس الوزراء الإسرائيلي بنيامين نتنياهو والتي وصفته بـ "المخادع" @grokpic.twitter.com/kVn7BRhfRT
— بدر المحروقي - عُمان (@baderalmahroqi) April 10, 2026