مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی نظریاتی جنگ کو ڈیجیٹل میدان میں منتقل کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران مبینہ طور پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایسے طنزیہ ’میمز‘ تیار کر رہا ہے جو مغربی معاشروں میں اضطراب پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران سے منسلک گروہ اب مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے انگریزی زبان میں طنزیہ مواد تخلیق کر رہے ہیں۔
ان کا بنیادی مقصد امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے
سے اپنے بیانیے کو تقویت دینا اور مغربی ممالک میں موجود حکومت مخالف جذبات کو ہوا دینا ہے۔
امریکی سیاست نشانہ
یہ مہم محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں امریکی پاپ کلچر کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان میمز میں امریکی سیاسی شخصیات، بشمول ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوام کی توجہ داخلی خلفشار پر مرکوز کرنا ہے۔
ڈیجیٹل مہارت
ان میمز کو بغور دیکھا جائے تو ان کی تیاری میں غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت نظر آتی ہے۔
جدید ویژول ایفیکٹس اور ’لیگو‘ اینیمیشن جیسی تکنیکوں کے علاوہ طنزیہ موسیقی کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس مواد کی تیاری کا مقصد سادہ ہے۔ یعنی کم لاگت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اثر انگیزی پیدا کرنا اور مغربی سامعین کو اپنی جانب متوجہ کرنا۔
ماہرین کا تجزیہ
کیمبرج یونیورسٹی کے محقق نیل لافی ڈرائیور کے مطابق یہ ایک منظم پروپیگنڈا جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا ہدف مغرب میں جنگ کے خلاف اس قدر بے چینی پیدا کرنا ہے کہ فیصلہ سازوں کو پسپائی پر مجبور کیا جا سکے۔ اس لیے یہ ڈیجیٹل ٹولز تہران کی اسٹریٹیجک ضرورت بن چکے ہیں۔
ڈیجیٹل محاذ پر یکطرفہ جنگ
حیران کن طور پر امریکا اور اسرائیل اس قسم کی منظم ڈیجیٹل مہم کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے اندر سخت انٹرنیٹ سنسرشپ کے باعث یہ مواد وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پوری مہم کا ہدف خالصتاً عالمی اور خاص طور پر مغربی رائے عامہ ہے۔
تاریخ پس منظر اور موجودہ صورتحال
یہ پہلی بار نہیں کہ جنگوں میں پروپیگنڈا کا سہارا لیا گیا ہو۔ 2022 میں روس یوکرین جنگ کے دوران بھی اسی طرح کے حربے استعمال ہوئے تھے۔
گزشتہ برس ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے دوران بھی بڑی تعداد میں جعلی تصاویر اور مواد کا انٹرنیٹ پر پھیلاؤ دیکھا گیا تھا۔
مذاکرات اور مستقبل
عالمی برادری کی نظریں اب اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات پر مرکوز ہیں۔
پاکستان میں ایران اور امریکا کے مابین 40 روز سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر بات چیت ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق یہ ملاقاتیں اسلام آباد کے ایک فوجی مقام پر سخت سکیورٹی میں منعقد کی جائیں گی۔
مبصرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نے جدید جنگوں کا نقشہ بدل دیا ہے، جہاں اب گولہ بارود کے ساتھ ساتھ ’ڈیجیٹل بیانیے‘ کی جنگ بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔