اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

پاکستان کی سفارتی کامیابی، جنگ دو ہفتوں کے لئے بند ہوگئی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

پاکستان کی سفارتی کوششیں بالآخر رنگ لائیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ دو ہفتوں کے لیے بند ہوگئی ہے۔

خطہ عارضی ہی سہی مگر کشیدگی میں کمی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا جس کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہوا۔ 

اس اعلان کے فوراً بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

خام تیل کی قیمت گر کر 96 ڈالر فی بیرل پہنچ گئی، گولڈ نے زور پکڑنا شروع کیا، اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے یکدم چھلانگ کر کر تاریخ میں پہلی مرتبہ 12000 پوائنٹ اضافہ کیا۔

WhatsApp Image 2026 04 06 at 11.25.49 AM

مزید پڑھیں

معاہدے کی تفصیلات اور ثالثی

یہ اعلان پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے ٹرمپ کو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر ’ہمہ گیر تباہی‘ کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ کیا۔

معاہدے کے تحت تہران نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے

 ذریعے آبنائے ہرمز کو ’مکمل اور محفوظ‘ طور پر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ اس کے بدلے امریکہ اور اسرائیل نے جارحانہ کارروائیاں روکنے کا وعدہ کیا۔

بین الاقوامی ردِعمل

  • ایران: وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ محفوظ آمدورفت مسلح افواج کے تعاون سے ممکن ہوگی اور حملے رکنے کی صورت میں دفاعی کارروائیاں بھی روک دی جائیں گی۔
  • اسرائیل: وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تاہم اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا اس میں لبنانی محاذ بھی شامل ہے یا نہیں۔
  • پاکستان: وزیرِاعظم شہباز شریف نے تمام فریقوں کو ’اسلام آباد‘ میں مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مدعو کیا، جہاں ٹرمپ کے بیان کردہ 10 نکاتی منصوبے پر بات چیت ہوگی، جسے انہوں نے ’عملی بنیاد‘ قرار دیا۔
pakistan iran us
(فوٹو: اے آئی)

درپیش چیلنجز

جنگ بندی کے باوجود خدشات برقرار ہیں، کیونکہ اعلان کے بعد خلیجی ممالک پر ایرانی میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا جنگ بندی کے احکامات تمام یونٹس تک بروقت پہنچے ہیں یا نہیں۔

اس کے علاوہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام اور امریکی پابندیوں جیسے بنیادی مسائل تاحال حل طلب ہیں، جس کے باعث یہ جنگ بندی حتمی مذاکرات سے قبل محض ایک ’سانس لینے کا موقع‘ سمجھی جا رہی ہے۔