اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

میزائل اب تک ختم کیوں نہیں ہوئے؟ کیا تہران طویل جنگ کے موڈ میں ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر زمین مقام پر میزائل (فوٹو: رائٹرز)

فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا کمپاؤنڈ بھی شامل تھا۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں بی-2 اسپرٹ اسٹریٹجک بمبار طیاروں نے حصہ لیا اور زیر زمین میزائل ڈپوؤں کو جی بی یو-57 بنکر بسٹر بموں سے تباہ کیا۔

یہ جدید بمبار طیارے میزائل ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے، جو اس جنگ کا دوسرا مرحلہ تھا۔

ماہرین کے مطابق بی-2 طیارے امریکی عسکری طاقت کا وہ آخری 

حربہ ہیں جو ایرانی زیر زمین میزائل پروگرام کی اہمیت اور اسے تباہ کرنے کے لیے درپیش مشکل کو ظاہر کرتا ہے۔

ایران کے لیے اس کا میزائل پروگرام اس جنگ کا بنیادی محور ہے، کیونکہ یہی اس کی عسکری طاقت اور جوابی کارروائی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

irani missile 2
فضائی حملوں کے بعد ایران کے میزائل اڈے کے اندر عمارتوں کو پہنچنے والا نقصان (فوٹو: عالمی میڈیا)

تہران کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کے پاس طویل جنگ لڑنے کے لیے کافی میزائل موجود ہیں اور یہ ذخائر جنگ کے نتائج پر کیا اثر ڈالیں گے۔

ایران کی حکمت عملی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے تک میزائل فائرنگ جاری رکھنا ہے۔ 

اگرچہ کچھ تجزیہ کاروں نے ایرانی میزائل ڈیٹرنس کی افادیت پر سوال اٹھائے ہیں، لیکن تہران اسے اپنی قومی سلامتی کا اہم ترین ستون سمجھتا ہے اور اسے کسی صورت ترک کرنے کو تیار نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں میزائل فائرنگ کی رفتار میں کمی کو ایرانی صلاحیت کے خاتمے سے تعبیر کرنا غلط ہوگا۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ایران طویل جنگ کی تیاری کے تحت اپنے جدید ترین میزائلوں کے استعمال کو منظم کر رہا ہے تاکہ اہم اہداف کو نشانہ بنا کر جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھا جا سکے۔

irani missile 3
(فوٹو: رائٹرز)

ایران کا میزائل نظام صرف ذخائر تک محدود نہیں بلکہ اس میں پیداواری مراکز، ٹھوس ایندھن کی تیاری اور لانچ پیڈز بھی شامل ہیں۔

مارچ 2025 میں ایران نے زیر زمین میزائل شہروں کا اعلان کیا تھا، جہاں سے بیلسٹک میزائل تیار اور فائر کیے جاتے ہیں۔ ان شہروں میں خیبر شکن، قادر، حاج قاسم، سجيل اور عماد جیسے جدید میزائل موجود ہیں۔

کچھ اندازوں کے مطابق ان زیر زمین ٹھکانوں میں ہزاروں میزائل موجود ہیں اور ان کی گہرائی 500 میٹر تک ہے، جس کی وجہ سے انہیں تباہ کرنا ناممکن ہے۔ 

ان شہروں کے متعدد داخلی راستے ہیں، لہذا ایک راستے کی تباہی سے پورا نظام ناکارہ نہیں ہوتا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق جنگ کے ایک ماہ بعد بھی ایران کے پاس اپنی میزائل صلاحیت کا نصف حصہ اور ہزاروں ڈرون موجود ہیں۔ 

ایران کو یہ صلاحیت حاصل ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اپنے لانچ پیڈز اور تنصیبات کو دوبارہ فعال کر لیتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جون 2025 کی جنگ کے دوران ایران نے اپنے میزائل ذخائر کا بڑا حصہ کھو دیا تھا، جس میں بیلسٹک میزائلوں کی تعداد 2500 سے کم ہو کر 1500 رہ گئی تھی۔ 

irani missile 4
ایک تھاڈ میزائل کی لاگت 12.8 ملین ڈالر ہے، جو ایرانی میزائل کی لاگت سے انتہائی زیادہ ہے (فوٹو: رائٹرز)

اس وقت اسرائیل نے 293 لانچ پیڈز اور ایندھن کی تیاری کے 20 میں سے 12 مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔

تاہم اسرائیلی تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ صرف سطحی تنصیبات تباہ ہوئیں جبکہ زیر زمین انفرا اسٹرکچر محفوظ رہا تھا اور ایران نے ستمبر 2025 ہی سے اپنے میزائل پروگرام کی بحالی شروع کر دی تھی۔ 

ایک رپورٹ کے مطابق ایران ماہانہ 163 سے 217 میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دسمبر 2025 تک اپنی پیداواری صلاحیت مکمل بحال کر چکا تھا۔

ایران کی ایک اور طاقت اس کے متحرک لانچ پیڈز ہیں، جو اسے مختص مقامات کے مقابلے میں زیادہ لچک فراہم کرتے ہیں۔ 

یہ گاڑیاں عام کمرشل گاڑیوں جیسی ہوتی ہیں، جنہیں تلاش کرنا اور تباہ کرنا بھی مشکل ہے۔ ایران نے دشمن کو گمراہ کرنے کے لیے مصنوعی لانچ پیڈز کا استعمال بھی شروع کیا ہے۔

ایران نے ٹھوس ایندھن والے میزائلوں جیسے فاتح 110 اور ذوالفقار پر توجہ مرکوز کی ہے، جنہیں تیار کرنے میں کم وقت لگتا ہے۔ 

مغربی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے پابندیوں کے باوجود چین اور روس سے ٹھوس ایندھن کے اہم اجزا اور مکسنگ مشینیں حاصل کی ہیں، جو اس کی پیداواری صلاحیت کو بڑھاتی ہیں۔

irani attacks
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کی حکمت عملی کا مقصد دشمن کو تھکانا ہے، جسے وہ غیر متناسب مزاحمت کہتا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام، خاص طور پر تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل مہنگے ہونے کی وجہ سے جلد ختم ہو جائیں، جبکہ ایرانی ڈرون اور میزائل سستے اور کثیر تعداد میں دستیاب ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق تھاڈ میزائل کی قیمت 12.8 ملین ڈالر ہے، جبکہ ایران کے حملے نسبتاً بہت سستے ہیں۔ 

امریکہ سالانہ صرف 96 تھاڈ میزائل حاصل کر پاتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دفاعی نظام کو طویل جنگ میں شدید دباؤ کا سامنا ہے اور ایران اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر جنگ کو طویل اور مہنگا بنانا چاہتا ہے۔