امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ چند گھنٹوں میں ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے تاکہ ہرمز کھولا جائے ورنہ ایران کے توانائی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی آخری مہلت ختم ہونے والی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو یاد ہے جب میں نے ایران کو 10 دن دئے تھے معاہدہ کرنے یا ہرمز کھولنے کے لیے؟ وقت ختم ہو رہا ہے، صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔
مزید پڑھیں
آج اتوار کو وہ آخری 24 گھنٹے ہیں، جس کے بعد 6 اپریل کا مقررہ وقت آ جائے گا۔
دریں اثنا آج اتوار کو اسرائیل کے فوجی حکام نے اعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں انہوں نے وسط اور مغرب ایران میں 120 سے زائد ایرانی اہداف پر حملہ کیا۔
فضائیہ نے ایران کے ماہشہر میں ایک صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جو
ہتھیار بنانے کے لیے کیمیائی مواد تیار کرتا ہے۔
یہ کمپلیکس دو اہم مراکز میں سے ایک ہے جو دھماکہ خیز مواد، بیلسٹک میزائل اور دیگر ہتھیار تیار کرتے ہیں۔
ماہشہر کے گورنر کے مطابق 3 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور کئی پیٹرول کیمیائی کمپنیز جیسے فجر 1، فجر 2، رجال اور امیرکبیر بھی حملوں کا شکار ہوئیں۔
اس دوران اسرائیل پر ایرانی فائر بھی جاری رہا، جس سے جنوبی اسرائیل میں غیر آباد علاقے میں ایک میزائل گرا، مگر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
اسرائیلی اعلیٰ دفاعی اہلکار کے مطابق، اسرائیل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے لیکن ابھی امریکہ سے اشارے کا انتظار ہے۔
یہ حملے آئندہ چند دنوں میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔