اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

بحیرہ احمر کی مرجان چٹانیں جدید ادویہ کی تیاری کا اہم ذریعہ بن گئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

بحیرہ احمر میں موجود مرجان چٹانیں اب جدید طبی تحقیق کے لیے ایک اہم بائیولوجیکل مائن یا حیاتیاتی کان کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

مزید پڑھیں

ماہرین کے مطابق بائیوپراس پیکنگ کے عمل کے ذریعے ان چٹانوں سے ایسی ادویات کی تیاری ممکن ہو رہی ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔

بحیرہ احمر میں مرجان چٹانوں اور کچھوؤں کے تحفظ کی تنظیم (شمس) کے مطابق سمندری مخلوقات اپنے مسابقتی ماحول میں منفرد کیمیائی مرکبات پیدا کرتی ہیں۔ 

یہ مرکبات کینسر، مختلف اقسام کی سوزش، بیکٹیریل انفیکشن اور وائرل بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ ان سے طاقتور درد کش ادویات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

تحقیقی میں سمندری اسفنج اور مرجان جیسی مخلوقات سے نمونے انتہائی احتیاط سے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ 

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان نمونوں سے فعال مادوں کو الگ کیا جاتا ہے، جس کے بعد ان کی لیبارٹری میں تفصیلی جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ ان کی افادیت اور طبی اثرات کا تعین ہو سکے۔

کسی بھی مرکب کے مؤثر ہونے پر اسے کیمیائی تجزیے کے بعد سخت طبی اور لیبارٹری ٹیسٹوں سے گزارا جاتا ہے۔ 

ان تمام مراحل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ادویات انسانی استعمال کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہوں اور بیماریوں کے علاج میں بہترین نتائج فراہم کر سکیں۔

مرجان چٹانوں کا طبی استعمال صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ ان کے ڈھانچے سے حاصل ہونے والی کیلشیم کاربونیٹ ہڈیوں کی سرجری میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔ 

یہ مادہ انسانی ہڈیوں سے مماثلت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ہڈیوں کی پیوند کاری اور زخم بھرنے کے عمل میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔