اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ہیلیم کا عالمی بحران: ٹیکنالوجی کی دنیا کا نیا ’سرد سونا‘ خطرے میں!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور جدید مائیکرو چپس کی پیداوار میں تعطل کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ بحران کسی سافٹ ویئر کی کمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہیلیم نامی اس نایاب گیس کی قلت ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔

ڈیجی ٹائمز ایشیا کے مطابق 3 اور 2 نینو میٹر کی جدید چپس بنانے والی لیتھوگرافی مشینیں ہیلیم کے بغیر کام نہیں کر سکتیں۔

یہ گیس انتہائی درجہ حرارت پر چپس کو ٹھنڈا رکھنے اور ان کی 

درستگی برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے، جس کے بغیر پروڈکشن ناممکن ہے۔

اے ایس ایم ایل جیسی بڑی کمپنیاں خبردار کر رہی ہیں کہ ہیلیم کی دستیابی میں معمولی اونچ نیچ بھی ایپل اور انوڈیا جیسے اداروں کے لیے پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے۔

یہ گیس اب ڈیجیٹل دور کی اختراعات کو زندہ رکھنے والا آخری کولنٹ (Coolant) بن چکی ہے۔

ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ

helium gas 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

فیوژن ورلڈ وائیڈ کی رپورٹ کے مطابق ہیلیم کا استعمال بڑے ڈیٹا سینٹرز اور 18 ٹیرا بائٹ سے بڑی ہارڈ ڈرائیوز میں رگڑ کم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

اس کی کم کثافت توانائی کے اخراجات کو 20 فیصد تک کم کر دیتی ہے، جو ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لیے انتہائی اہم ہے۔

موجودہ ڈیجیٹل رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ہیلیم کی قلت سے کلاؤڈ سٹوریج کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

فی الحال ہیلیم کے متبادل کے طور پر سالڈ سٹیٹ ڈرائیوز (SSD) زیادہ مہنگی ہیں، جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے ایک بوجھ ثابت ہو رہی ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ اور سائنسی تحقیق

helium gas 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکن فزیکل سوسائٹی کے مطابق کوانٹم کمپیوٹرز کو منفی 273 اعشاریہ 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کرنے کے لیے ہیلیم واحد مادہ ہے۔

گوگل اور آئی بی ایم جیسے ادارے اس کے بغیر اپنے پروسیسرز کو فعال نہیں رکھ سکتے، جس سے مستقبل کی سائنسی تحقیق خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اس گیس کی قلت نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ انسانی صحت کی جدید سہولیات کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس کا قدرتی متبادل سرے سے موجود نہیں ہے۔

طبی میدان میں بھی ایم آر آئی مشینیں اور پارٹیکل ایکسیلیریٹرز مکمل طور پر ہیلیم پر انحصار کرتے ہیں۔ 

ہیلیم کی جغرافیائی سیاست

helium gas 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دنیا کے ہیلیم ذخائر صرف 4 ممالک تک محدود ہیں۔

قطر دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے (30 سے 38 فیصد)، تاہم علاقائی کشیدگی کے باعث حال ہی میں اس کی سپلائی میں خلل پڑا ہے، جس سے عالمی منڈی میں ہلچل مچ گئی ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ، الجزائر اور روس دیگر اہم سپلائرز ہیں۔ 

امریکہ اپنی پیداوار دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ روس کی پیداوار پر پابندیاں عائد ہیں۔ قطر کے راس لفان کمپلیکس میں پیداوار متاثر ہونے سے عالمی سطح پر ہیلیم کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی اور چیلنجز

انٹیل اور سام سنگ جیسی بڑی کمپنیاں اب ’کلوزڈ ری سائیکلنگ‘سسٹمز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ 85 فیصد ہیلیم کو دوبارہ کارآمد بنایا جا سکے۔

اگرچہ اس پر کروڑوں ڈالر لاگت آتی ہے، لیکن آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور شپنگ کے اخراجات میں 150 فیصد اضافہ اسے وقت کی ضرورت بناتا ہے۔

ہیلیم کا بحران صرف خام مال کی قلت نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور کی کمزوری کا بھی مظہر ہے۔ 

دنیا جس قدر مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے، اسی قدر یہ ٹیکنالوجی زمین کی گہرائیوں سے نکلنے والی ایک ایسی گیس کی محتاج ہے جو ایک بار ضائع ہو جائے تو دوبارہ نہیں ملتی۔