امریکہ و اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے 33ویں روز بھی اسرائیلی فوج نے ایرانی فضائی حدود میں غیر معمولی آزادی کے ساتھ کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کے مطابق حالیہ فضائی حملوں میں ایران کی بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت کو محدود اور عسکری قیادت کو تہس نہس کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک 2 ہزار سے زائد ایرانی فوجی اور کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔
ان حملوں میں ایرانی ریاست کے بنیادی ڈھانچے سے جڑے کئی اہم ترین نام بھی شامل ہیں جو دہائیوں سے تہران کی پالیسیوں کے معمار تھے۔
سپریم لیڈر اور اہم شخصیات کا جانی نقصان
جنگ کے پہلے ہی روز 28 فروری کو تہران میں ہونے والے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای جاں بحق ہوئے۔
ان کے ساتھ قریبی مشیر اور جوہری و سیکیورٹی امور کے ماہر علی شمخانی بھی فضائی حملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ دونوں شخصیات ایرانی فیصلہ سازی کے مرکزی ستون سمجھے جاتے تھے۔
فوجی اور انٹیلی جنس افسران کا صفایا
اُسی روز کے حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور، وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ اور مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی بھی جاں بحق ہوئے۔
یہ افسران ایرانی فوج کے روایتی اور نیم فوجی دستوں کے درمیان ہم آہنگی اور دفاعی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم ترین کردار ادا کر رہے تھے۔
اہم حکومتی و انٹیلی جنس حکام کی ہلاکت
17 مارچ کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی فضائی حملے کا نشانہ بنے۔ اس کے اگلے ہی روز انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب بھی اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوگئے۔
علاوہ ازیں نیم فوجی تنظیم باسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی انہی حملوں کی نذر ہوئے۔
بحری انٹیلی جنس اور دیگر نقصانات
26 مارچ کو بندر عباس میں اسرائیلی کارروائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحری انٹیلی جنس کے سربراہ بہنام رضائی جاں بحق ہوئے۔
ان کے علاوہ مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے مشیر جمشید اسحاقی کی ہلاکت بھی سامنے آئی ہے، جس سے ایرانی سیکیورٹی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
یاد رہے کہ یہ کشیدگی اُس وقت بڑھی، جب واشنگٹن اور تہران کے مابین عمان کی ثالثی میں جوہری مذاکرات جاری تھے۔
یہ تمام جانی نقصان تہران کے لیے دہائیوں میں سب سے بڑا عسکری و سیاسی بحران ہے۔ ان حملوں نے نہ صرف ایرانی ڈھانچے کو کمزور کیا بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں اور شپنگ روٹس کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔