اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے ایرانی رہنماؤں کے بارے میں جانیے!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی و اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے علی خامنہ ای اور موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکہ و اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے 33ویں روز بھی اسرائیلی فوج نے ایرانی فضائی حدود میں غیر معمولی آزادی کے ساتھ کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ 

مزید پڑھیں

اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کے مطابق حالیہ فضائی حملوں میں ایران کی بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت کو محدود اور عسکری قیادت کو تہس نہس کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک 2 ہزار سے زائد ایرانی فوجی اور کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔ 

ان حملوں میں ایرانی ریاست کے بنیادی ڈھانچے سے جڑے کئی اہم ترین نام بھی شامل ہیں جو دہائیوں سے تہران کی پالیسیوں کے معمار تھے۔

سپریم لیڈر اور اہم شخصیات کا جانی نقصان

irani leader ali khamnae killed in us israel attack 1
امریکی و ایرانی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای (فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگ کے پہلے ہی روز 28 فروری کو تہران میں ہونے والے حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای جاں بحق ہوئے۔

ان کے ساتھ قریبی مشیر اور جوہری و سیکیورٹی امور کے ماہر علی شمخانی بھی فضائی حملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ دونوں شخصیات ایرانی فیصلہ سازی کے مرکزی ستون سمجھے جاتے تھے۔

فوجی اور انٹیلی جنس افسران کا صفایا

irani leader major general akbar pakpoor killed in us israel attack 1
میجر جنرل اکبر پاکپور (فوٹو؛ انٹرنیٹ)

اُسی روز کے حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور، وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ اور مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی بھی جاں بحق ہوئے۔

 یہ افسران ایرانی فوج کے روایتی اور نیم فوجی دستوں کے درمیان ہم آہنگی اور دفاعی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم ترین کردار ادا کر رہے تھے۔

اہم حکومتی و انٹیلی جنس حکام کی ہلاکت

irani leader ali larijani
حملوں میں جاں بحق ہونے والے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی (فوٹو: انٹرنیٹ)

17 مارچ کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی فضائی حملے کا نشانہ بنے۔ اس کے اگلے ہی روز انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب بھی اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوگئے۔

علاوہ ازیں نیم فوجی تنظیم باسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی انہی حملوں کی نذر ہوئے۔

irani leader ghulam raza sulemani
غلام رضا سلیمانی (فوٹو: انٹرنیٹ)

بحری انٹیلی جنس اور دیگر نقصانات

26 مارچ کو بندر عباس میں اسرائیلی کارروائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحری انٹیلی جنس کے سربراہ بہنام رضائی جاں بحق ہوئے۔

ان کے علاوہ مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے مشیر جمشید اسحاقی کی ہلاکت بھی سامنے آئی ہے، جس سے ایرانی سیکیورٹی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

irani leader ali shimkhani killed in us israel attack 1
علی شمخانی (فوٹو: انٹرنیٹ)

یاد رہے کہ یہ کشیدگی اُس وقت بڑھی، جب واشنگٹن اور تہران کے مابین عمان کی ثالثی میں جوہری مذاکرات جاری تھے۔

یہ تمام جانی نقصان تہران کے لیے دہائیوں میں سب سے بڑا عسکری و سیاسی بحران ہے۔ ان حملوں نے نہ صرف ایرانی ڈھانچے کو کمزور کیا بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں اور شپنگ روٹس کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

irani leader ismail khateebzada
اسماعیل خطیب زادہ (فوٹو: انٹرنیٹ)
irani leader syed abdul raheem moswi
سید عبدالرحیم موسوی (فوٹو: انٹرنیٹ)