’ایکسپلوزنگ ہیڈ سنڈروم‘ (Exploding Head Syndrome) نیند کے دوران پیش آنے والا ایک ایسا عارضہ ہے جس میں انسان کو اچانک سر کے اندر کسی زوردار دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں
طبی ماہرین کے مطابق اس طرح کی کیفیت بیداری اور نیند کے درمیانی مرحلے میں رونما ہوتی ہے، جس میں متاثرہ افراد کو اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پستول چلی ہو، دروازہ زور سے بند ہوا ہو یا کوئی بڑا دھماکہ ہوا ہو۔
یہ آوازیں محض چند سیکنڈ کے لیے ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ عمل درد سے پاک ہے، لیکن اس سے قلق اور شدید خوف پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کئی مریض اس تجربے کے بعد اسے فالج، دورہ پڑنے یا دماغی خرابی سے تعبیر کر کے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔
بعض افراد کو اس دوران آنکھوں کے سامنے روشنی کی چمک یا جسم میں بجلی کا کرنٹ دوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے، جو ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔
اسباب اور سائنسی پس منظر
تحقیق کے مطابق جب دماغ بیداری سے نیند کی جانب منتقل ہو رہا ہوتا ہے، تو اس کے اعصابی نظام میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دوران دماغ اپنی اندرونی سرگرمیوں کو غلطی سے ایک زوردار بیرونی آواز کے طور پر سمجھنے لگتا ہے۔
یہ عارضہ براہِ راست کسی عضو کے نقصان کا باعث نہیں بنتا، تاہم یہ ان لوگوں میں زیادہ عام ہے جو پہلے ہی بے خوابی، ذہنی دباؤ یا دیگر نیند کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ کیفیت اعصابی نظام میں ایک تکنیکی خرابی کی مانند ہے۔
تعداد اور شرح
مختلف طبی جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ کم از کم 10 فیصد آبادی کبھی نہ کبھی اس عارضے کا سامنا کرتی ہے۔
بعض مطالعات کے مطابق زندگی میں ایک بار اس کیفیت کو محسوس کرنے والوں کی شرح 30 فیصد تک ہو سکتی ہے جو کہ کافی زیادہ ہے۔
علاج اور احتیاط
ماہرین کے مطابق یہ عارضہ طبی لحاظ سے خطرناک نہیں ہے، اس لیے مریضوں کو تسلی دینا پہلا قدم ہے۔
نیند کے معمولات میں بہتری، ذہنی تناؤ میں کمی اور سکون اس کیفیت سے نجات میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم اگر یہ دورے بار بار پڑیں یا ان کے ساتھ شدید سر درد، بے ہوشی یا الجھن جیسی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طور پر کسی ماہرِ امراضِ اعصاب سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی سنگین طبی مسئلے کو بروقت دیکھا کیا جا سکے۔