امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے ملک میں ہونے والے حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز پھیلانے پر انتہائی سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق منگل کے روز جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ ایسے افراد کو دشمن کی مدد کرنے والا سمجھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل قانون کے تحت سزائے موت اور جائیداد کی ضبطی تک لے جا سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ برس منظور کیے گئے سخت قانون کا اطلاق نہ صرف خفیہ اطلاعات یا عملی مدد پر ہوتا ہے، بلکہ ایسی میڈیا
سرگرمیوں پر بھی ہو سکتا ہے جنہیں حکومت امریکا یا اسرائیل جیسے دشمن ممالک کے مفاد میں تصور کرے۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال میں ایسی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا، جو دشمن کو اہداف شناخت کرنے میں مدد دے سکتی ہوں، انٹیلی جنس تعاون کے زمرے میں آتا ہے۔
ترجمان نے خوف و ہراس پھیلانے یا گمراہ کن معلومات شیئر کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران قوانین مزید سخت ہو چکے ہیں اور ایسے افراد کو قید جیسی بھاری سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اب تک تقریباً 200 افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں اور سیکیورٹی ادارے ایسے مشتبہ افراد کے اثاثے ضبط کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مختلف رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن پر حساس مقامات کی تصویرکشی، حکومت مخالف مواد شیئر کرنے یا دشمن کے ساتھ تعاون جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔
28 فروری سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔
ایران نے جوابی کارروائیوں میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کی سمت سیکڑوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں ، جبکہ اسرائیل متعدد ایرانی عسکری شخصیات کو ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنا چکا ہے۔
ایرانی دھمکیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت تقریباً مفلوج ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی سپلائی میں خلل اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔