اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایرانی فوجی مراکز، پانی و ادویہ پلانٹس پر حملے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ ملک کے وسطی حصے میں متعدد عسکری تنصیبات کو امریکی و اسرائیلی افواج نے نشانہ بنایا ہے اور کچھ شہری ڈھانچے بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

مزید پڑھیں

یہ کارروائی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے توانائی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اصفہان میں کم از کم 2 بڑے دھماکوں اور اٹھتے ہوئے دھوئیں کی ویڈیوز کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ شمال مغربی شہر زنجان سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

صوبہ اصفہان کے گورنر آفس کے سیکیورٹی امور کے سربراہ اکبر صالحی نے خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کو بتایا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جانی و مالی نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل ہی ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر اتفاق نہ کیا تو امریکا ایران کے تمام بجلی گھر، تیل کے کنویں، جزیرہ خارگ اور حتیٰ کہ تمام ڈی سیلی نیشن پلانٹس کا بھی صفایا  کر دے گا۔ 

اسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی ’اِسنا‘ نے اطلاع دی ہے کہ قشم جزیرے میں واقع پانی صاف کرنے کا بڑا منصوبہ بھی حملے کی زد میں آکر مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے اور اسے فی الوقت دوبارہ فعال کرنا ممکن نہیں رہا۔ 

تاہم حملے کے وقت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ منگل کو امریکا و اسرائیل کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی ادویہ ساز کمپنیوں میں سے ایک کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو اینستھیزیا اور کینسر کے علاج کی ادویات تیار کرتی ہے۔

تہران میں بھی  متعدد دھماکے اور بجلی کی فراہمی میں خلل ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ سخت سیکیورٹی اقدامات کے باوجود وہ روزمرہ زندگی کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اُدھر سیاسی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی اعلیٰ شخصیات سے براہِ راست رابطے میں ہیں، تاہم انہوں نے نام ظاہر نہیں کیے۔ 

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا نے کسی ذریعے، بشمول پاکستان کے توسط سے بات چیت کی کوئی باضابطہ درخواست ارسال نہیں کی۔