اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایران: امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تردید، مطالبات غیر حقیقی قرار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ تہران کو موصول ہونے والی امریکی تجاویز غیر منطقی اور حقیقت سے دور ہیں۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان مطالبات میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔

ترجمان نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ رابطے صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے تک محدود ہیں کیونکہ امریکی سفارت کاری اب قابل بھروسہ نہیں رہی۔

اسماعیل بقائی نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی و امریکی حملوں کو عالمی جرم قرار دیا۔ انہوں نے جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی (IAEA) کی خاموشی پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

بقائی کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران بوشہر، نطنز اور اصفہان کی اہم ایٹمی تنصیبات کو متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان حملوں کے باوجود ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ذلت آمیز شرائط قبول نہیں کرے گا۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت انتہائی ’عقل مند‘ ہے۔ انہوں نے براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے جلد کسی معاہدے کی امید ظاہر کی ہے۔

ٹرمپ کے مطابق 28 فروری کو علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران میں قیادت کی تبدیلی آ چکی ہے اور نئے حکمران سمجھوتہ کرنے کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں بامقصد مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں۔ اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر دوغلی پالیسی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک طرف مذاکرات کا کہتا ہے اور دوسری طرف زمینی فوج بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اپنی فوجیں ایران بھیجیں تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت میں امریکی تسلط کو قبول کرنے یا ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں ہوگا۔