پاکستان آج اتوار کو علاقائی طاقتوں کے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کو روکنے کے طریقوں پر غور کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تقریباً 2500 امریکی میرینز خطے میں پہنچ چکے ہیں جبکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت بھی اس جنگ میں شامل ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ مذاکرات میں شرکت کریں۔
اسی دوران پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ علاقائی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔
یہ جنگ، جو 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی، پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔
جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ عالمی معیشت کو توانائی کی سپلائی میں شدید خلل کے باعث غیر معمولی جھٹکا لگا ہے۔
امریکہ، ایران جنگ: کیا ہو رہا ہے، کلک کریں
ایران میں جاری جنگ نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی چینز کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کھاد کی شدید کمی پیدا کر دی ہے اور فضائی سفر کو بھی متاثر کیا ہے۔
مزید برآں، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے عالمی منڈیوں اور قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
ادھر امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ایران جوابی کارروائیوں میں اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ حوثیوں کی شمولیت کیا رخ اختیار کرتی ہے، کیونکہ اگر انہوں نے دوبارہ بحیرۂ احمر کے قریب آبنائے باب المندب میں جہازوں کو نشانہ بنایا تو عالمی بحری تجارت، جس کا تقریباً 12 فیصد حصہ اس راستے سے گزرتا ہے، مزید متاثر ہو سکتا ہے۔