آج جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 105.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 94.36 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
یہ اضافہ گزشتہ سیشن میں 2 فیصد سے زائد کمی کے بعد سامنے آیا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے امکانات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں، خاص طور پر ایران کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے بعد کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز پر اب بھی غور کر رہا ہے، جس نے توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
اکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون ایران
کے ساتھ جنگ میں آخری حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت زمینی کارروائی ایران کے اندرونی علاقوں تک ہوگی تاکہ یورینیم کو محفوظ بنایا جا سکے، جبکہ جزیرہ خارگ پر کنٹرول بھی پینٹاگون کے منصوبوں میں شامل ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا کہ ان کا ملک جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم وہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر مزید سخت حملہ کریں گے اگر اس نے فوجی شکست کو تسلیم نہ کیا۔
این ایل آئی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیف اکانومسٹ تسویوشی اوئنو نے کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کافی سخت دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث مذاکرات اور دونوں فریقین کی عسکری کارروائیوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔