فلپائن نے ایندھن کے بحران کے باعث توانائی کے شعبے میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ دنیا کی پہلی ریاست ہے جس نے ایران، امریکہ جنگ کے عالمی توانائی منڈی پر اثرات کے پیشِ نظر قومی سطح پر ملک بھر میں ایمرجنسی اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
عکاظ اخبار کے مطابق صدر فردیناند مارکوس نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تاکہ ملک میں توانائی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ فلپائن اپنی خام تیل کی تقریباً 98 فیصد درآمدات خلیج سے کرتا ہے جس کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں اور زندگی کے اخراجات متاثر ہوئے ہیں۔
حکومت کو استثنائی اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں براہِ راست ایندھن
کی خریداری اور بنیادی ضروریات کی تقسیم کی نگرانی شامل ہے۔
فلپائنی حکومت نے کہا ہے کہ ہنگامی حالت ایک سال تک برقرار رہے گی۔
بعض مزدور تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اختیارات مزدوروں کے حقوق محدود کر سکتے ہیں جبکہ کاروباری حلقوں نے اس کی حمایت کی ہے۔
عوامی احتجاجات اور ہڑتالوں کے پیشِ نظر حکومت نے مالی امداد، خدمات میں کمی، چار روزہ کام کا نظام اور عارضی طور پر کوئلے پر زیادہ انحصار جیسے اقدامات کیے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے ملتے جلتے اقدامات سری لنکا نے بھی کئے ہیں۔